سرینگر/۲۳ستمبر
وادیٔ کشمیر اپنے قدرتی حسن و جمال اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ روایتی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ قالین بافی، پشمینہ اور لکڑی پر نقش و نگار کے ساتھ ساتھ ’نمدہ سازی‘ بھی کشمیری تہذیب کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔
نمدہ دراصل اون سے تیار ہونے والا ایک موٹا کپڑا ہے جو فرش پر بچھانے یا بستر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ دستکاری گھروں کی زینت ہوا کرتی تھی اور بڑی منڈیوں میں اس کی مانگ رہتی تھی، مگر آج یہ فن زوال کے دہانے پر ہے۔
نمدہ سازی ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل ہے۔ بھیڑ کی اون کو صاف کرنے اور دھونے کے بعد پانی اور صابن کے ساتھ بار بار دبایا اور رول کیا جاتا ہے تاکہ وہ سخت ہوکر ایک ٹھوس کپڑے کی شکل اختیار کرے۔ اس کے بعد ہاتھ سے رنگین کشیدہ کاری کی جاتی ہے جو اسے منفرد اور دلکش بناتی ہے۔ لیکن اس سارے طویل اور مشکل عمل کے باوجود کاریگروں کو معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔
نوہٹہ کے بزرگ کاریگر بشیر احمد نے یو این آئی کو بتایا’’ہم ایک نمدہ بنانے کیلئے دن رات محنت کرتے ہیں۔ کبھی ہمارے نمدے دہلی، ممبئی اور خلیجی ممالک تک بھیجے جاتے تھے، لیکن اب ہماری محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ اکثر نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ہم سوچتے ہیں کہ یہ ہنر ترک کر دیں‘‘۔
احمد نے شکوہ کیا’’سرکار نے کئی بار وعدے کیے کہ نمدہ سازی سمیت روایتی فنون کو سہارا دیا جائے گا مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس پیشے سے روزی کمانا مشکل ہو چکا ہے، اسی لیے نئی نسل اس طرف راغب نہیں ہو رہی‘‘۔
ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے بشیر احمد بٹ نے کہا’’پائین شہر کے ہر محلے میں دس سے پندرہ نمدہ ساز ہوتے تھے، لیکن اب پورے شہر میں صرف چار کاریگر بچے ہیں‘‘۔
اسی فن سے وابستہ تاجر ارشید احمد نے کہا ’’نمدہ سازی کا کام آج بھی وادی میں زندہ ہے، مگر کاریگروں کی کمی اور وقت طلب عمل نے اسے محدود کر دیا ہے۔ مارکیٹ میں طلب کے باوجود ہنر مند نہ ہونے کی وجہ سے اس صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے‘‘۔
ماہرین کے مطابق نمدہ سازی کو جدید مارکیٹ سے جوڑنے اور ای،کامرس پلیٹ فارمز پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر موجود مانگ پوری ہو سکے۔ ان کے مطابق یہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے۔
ثقافتی ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ اسکولوں اور تربیتی مراکز میں نمدہ سازی کو پڑھایا جائے، اور سیاحتی نمائشوں کے ذریعے اسے کلچرل پروڈکٹ کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ مقامی عوام کو بھی ترغیب دی جائے کہ وہ نمدہ خرید کر اس ہنر کو سہارا دیں۔
اگرچہ موجودہ صورتحال مایوس کن ہے لیکن کاریگر اب بھی پرامید ہیں کہ حکومت اور سماج کے تعاون سے یہ فن دوبارہ اپنے سنہرے دور کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
(یو این آئی)










