نئی دہلی، 20 ستمبر (یو این آئی) قومی دارالحکومت کے روہنی ضلع میں پولیس اور بدنام زمانہ مجرم للو عرف اشرو اور اس کے ساتھیوں کے درمیان صبح سویرے مڈبھیڑ ہوئی۔ مڈبھیڑمیں دو ملزمان گولی لگنے سے زخمی ہوگئے ، جب کہ ایک کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ دو دیگر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے ۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجیو رنجن نے آج بتایا کہ تھانہ بدھ وہار کی اسپیشل ٹیم گشت پر تھی۔ پولیس کو پیشگی اطلاع ملی تھی کہ گوگی گینگ سے وابستہ للو اپنے ساتھیوں کے ساتھ گورکشک دل سے جڑے ایک اہم شخص کے گھر یا دفتر پر حملہ کرنے والاہے ۔ بتایا گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے حال ہی میں ایک مہاسبھا بلانے کی اپیل کی تھی۔ دراصل کچھ دن پہلے ، للو اور اس کے ساتھیوں نے اپنی گینگ پاور کا مظاہرہ کرنے کے لیے تین لوگوں کو بے دردی سے پیٹا تھا اور ویڈیو انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تھا۔
اس واقعہ کے سلسلے میں علی الصبح تقریباً 2:40 بجے سیکٹر-24 میں واقع بانکے بہاری مندرکے قریب پولیس نے سفید رنگ کی ایک مشکوک سوئفٹ کار کو روکنے کی کوشش کی۔ گاڑی میں سوار بدمعاشوں نے رکنے کے بجائے ایک سرکاری گشتی گاڑی کو ٹکر مار دی اور موقع پر اترکر پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پوزیشنیں سنبھال لیں اور فائرنگ کی۔
تصادم کے دوران، پولیس نے کل چھ راؤنڈ فائر کیے ، جبکہ مجرموں نے چھ سے سات راؤنڈ فائر کیے ۔ للو عرف اشرو اور اس کا ساتھی عرفان پیروں میں گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے ۔ تیسرے ملزم نتیش کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ وہیں دو دیگر ملزم گنڈا نالا، رٹھالہ کی دیوار پھاند کر فرارہوگئے ۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
تحقیقات سے پتہ چلا کہ للو عرف اشرو (23) ایک بدنام زمانہ مجرم ہے جو گوگی گینگ سے وابستہ ہے ۔ اس کے علاوہ وہ "نصرو گینگ” کا سرغنہ ہے ، جس کا نام اس کے بھائی نصرالدین کے نام پر رکھا گیا ہے ۔ نصرالدین اس وقت قتل کے دو مقدمات میں جیل میں ہے ۔ للو خود بھی قتل کی کوشش اور ڈکیتی سمیت پانچ سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے ۔
عرفان (21) للو کا قریبی ساتھی ہے ۔ وہ وجے وہار پولس اسٹیشن میں قتل کی کوشش کے دو مقدمات میں مطلوب ہے ۔ نتیش (30) پہلے بھی دھوکہ دہی کے معاملات میں ملوث رہا ہے ۔
پولیس نے واقعہ کے سلسلے میں تعزیرات ہند اور آرمس ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔ مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے اور پولیس اس بات کا بھی پتہ لگارہی ہے کہ اس واردات کے پیچھے گوگی گینگ اور نصرو گینگ کا کتنا گہرا نیٹ ورک ہے ۔








