بنگلور، 19 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان کا ‘گگن یان’ پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ اس پروگرام کا مقصد ہندوستانی خلا بازوں کو خلا میں بھیجنا ہے اور محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانا ہے ۔
ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو) کے چیئرمین وی نارائنن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ہندوستان کا پہلا انسانی مشن 2027 کی آخری سہ ماہی میں طے پایا ہے ۔ بنگلور میں ہائیڈروجن فیول نیشنل ورکشاپ کے افتتاح کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے متعلق تقریباً 80 سے 85 فیصد کام پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔مسٹر نارائنن نے کہا کہ ”پہلا بغیر پائلٹ کا مشن اس سال دسمبر میں طے ہے ۔ خلائی جہاز کے نظام کی جانچ کے لیے ہم انسانوں کے بجائے ایک انسان نما مخلوق بھیجیں گے ”۔
”اس کے بعد دو اور غیر انسانی مشن ہوں گے ، جس کے بعد ہندوستان کے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ہم 2027 کی پہلی سہ ماہی میں پہلی انسانی پرواز کا منصوبہ بنا رہے ہیں”۔مسٹر نارائنن نے کہا کہ انسانی خلائی پرواز ایک بڑی کامیابی ہے ، لیکن اسرو ملک کے فائدے کے لیے کئی شعبوں میں کام کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘گگن یان’ ایک پروگرام ہے ، لیکن ملک کے ہر شہری کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔
ہم زمین کے مشاہدے ، نیوی گیشن، مواصلات اور دیگر اطلاقی شعبوں کے ذریعے جدید خلائی ٹیکنالوجی کو عام آدمی تک پہنچانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی شہریوں کو کئی طریقوں سے مدد فراہم کرتی ہے ، جن میں خوراک کی سلامتی، پانی کا انتظام، ماہی پروری کی نگرانی، ٹیلی ویژن نشریات، ٹیلی کمیونیکیشن، ٹیلی میڈیسن وغیرہ شامل ہیں۔







