تل ابیب، 18 ستمبر (یو این آئی) اسرائیل نے امریکہ کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ غزہ میں کسی معاہدے کا امکان نہیں ہے ، اور یہ کہ وہ کارروائی میں توسیع کریں گے ۔
العربیہ کے مطابق ایک طرف جب امریکہ قطر کو ثالثی کے کردار میں واپس لانے اور بحران حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، دوسری طرف اسرائیل نے امریکہ کو باضابطہ اطلاع دی ہے کہ وہ غزہ میں اپنی کارروائیاں عالمی تنقید کے باوجود جاری رکھے گا اور کسی معاہدے کا امکان نہیں ہے ۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حماس کو نئی دھمکیاں دی ہیں، کاٹز نے کہا کہ اگر حماس نے اسرائیل کی شرائط نہ مانیں تو غزہ میں مزید شدت اختیار کرنے والے حملے کیے جائیں گے اور اسرائیل اپنی دھمکی پر عمل کرے گا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ تل ابیب نے واشنگٹن کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ تمام مذمتوں کے باوجود غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی کو مزید گہرا کرنے جا رہا ہے ۔
واضح رہے کہ امریکہ اس وقت اسرائیل اور قطر کے درمیان ثالثی کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، تاکہ اس بحران کا کوئی حل تلاش کیا جاسکے جو دوحہ میں حماس کے اعلیٰ حکام کے خلاف اسرائیلی حملے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اور دوحہ کو اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کے کردار میں واپس لایا جا سکے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور قطر کے ساتھ بحران کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے ۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر حملے تیز کر دیے ہیں، صرف پیر کی رات سے 150 سے زائد اہداف پر بمباری کی گئی۔ غزہ کے شہریوں کے لیے ‘عارضی منتقلی کا راستہ’ قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ محفوظ علاقوں میں منتقل ہوسکیں۔ اندازہ ہے کہ 3.5 لاکھ سے زائد افراد غزہ سٹی چھوڑ چکے ہیں، جب کہ بہت سے افراد کے پاس جانے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں۔








