شاہراہ پھل سے لدے ٹرکوں کیلئے مکمل بحال کی جائے گی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا گڈکری سے ملاقات کے بعد اعلان
(ندائے مشرق ڈیسک)
سرینگر/۱۶ ستمبر
مرکزی وزیر برائے سڑک، ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری نے منگل کو کہا کہ حکومت پْرعزم ہے کہ سرینگر،جموں نیشنل ہائی وے کو جلد از جلد مکمل حالت میں بحال کیا جائے۔
نئی دہلی میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر سینئر افسران کے ساتھ این ایچ۔۴۴(سرینگر جموں قومی شاہراہ) کی صورتحال پر ایک آن لائن جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کی ٹیمیں ہائی وے کو فعال رکھنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔
گڈکری نے ایکس پر کہا’’مسلسل بارشوں اور بڑے تودے گرنے کے باوجود، این ایچ اے آئی کی ٹیمیں اس اہم شاہراہ کو فعال رکھنے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہیں۔ ایک دو،لین عارضی ڈائیورڑن بنایا گیا ہے اور ٹریفک کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ایک درجن سے زائد کھدائی مشینیں اور پچاس سے زائد ارتھ موورز چوبیسوں گھنٹے کلیئرنس اور مرمت کے کام پر مامور ہیں‘‘۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا’’ہم اس اہم قومی شاہراہ کو جلد از جلد مکمل حالت میں بحال کرنے کیلئے پْرعزم ہیں تاکہ تمام مسافروں کی حفاظت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے شاہراہ کی طویل بندش کی وجہ سے پھل کاشتکاروں اور تاجروں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر سے بھاری گاڑیوں کے بلا رکاوٹ گزرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سڑک کی بلیک ٹاپنگ اور دیکھ بھال ضروری ہے لیکن یہ اہم ٹریفک میں طویل خلل کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’بلیک ٹاپنگ اپنے وقت پر ہو سکتی ہے لیکن بڑی گاڑیوں، خاص طور پر چار اور پانچ ایکسل ٹرکوں کو مغل روڈ سے نہیں موڑا جا سکتا۔ یہ ان کے لیے واحد راستہ ہے اور صرف کشمیر کی طرف ہزاروں ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، اس بیک لاگ کو صاف کرنا نہایت اہم ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ اس وقت پھلوں کا سیزن اپنے عروج پر ہے اور ٹرانسپورٹیشن میں مزید تاخیر کاشتکاروں اور تاجروں کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ اگرچہ چھوٹی گاڑیاں موڑی جا سکتی ہیں، لیکن سرینگر۔جموں نیشنل ہائی وے (این ایچ۴۴) بھاری ٹریفک کے لیے کھلا رہنا چاہیے جب تک کہ تمام پھنسی ہوئی گاڑیاں کلیئر نہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلیک ٹاپنگ کا کام صرف اس وقت شروع ہونا چاہیے جب دونوں طرف کا بیک لاگ مکمل طور پر صاف ہو جائے۔
مرکزی وزیر نتن گڈکری نے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا کہ ان کے خدشات دور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرکوں اور دیگر بھاری گاڑیوں کا بیک لاگ بلیک ٹاپنگ دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر صاف کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت دی کہ لین ڈسپلن کو یقینی بنایا جائے اور شاہراہ پر ٹریفک کو منظم کیا جائے تاکہ ہموار کلیئرنس ممکن ہو۔
گزشتہ روز وزیر زراعت جاوید ڈار نے نیشنل ہائی وے کا معائنہ کیا تاکہ زمینی صورتحال کا براہِ راست جائزہ لے سکیں اور بعد میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو سڑک کی موجودہ حالت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ این ایچ۴۴ پر خلل اور باقی ملک سے اہم رابطے کے ٹوٹنے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر سے بات کی تاکہ معاملے کی فوری نوعیت کو پہنچایا جا سکے۔ اسی پس منظر میں یہ جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا جو وزیر اعلیٰ کی ٹیلی فونک درخواست پر ہوا۔
اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سرندر کمار چودھری، وزراء سکینہ اِطو، جاوید رانا، جاوید ڈار اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اتل دولّو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا کے ساتھ ساتھ این ایچ اے آئی، این ایچ آئی ڈی سی ایل اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے سینئر افسران نے ذاتی طور پر اور آن لائن شرکت کی۔
آن لائن اجلا سکے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرینگر،جموں نیشنل ہائی وے کو پھل سے لدے ٹرکوں اور ضروریاتِ زندگی کی بلا رکاوٹ ترسیل کے لیے مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ گڈکری نے آج ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں شاہراہ کی بحالی کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت موجودہ صورتحال میں مسافروں اور کاشتکاروں کی مشکلات کم سے کم کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا’’وزیر اعلیٰ کی پہل پر معزز مرکزی وزیر برائے سڑک، ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے آج سرینگر۔جموں نیشنل ہائی وے کی بحالی کے حوالے سے اجلاس طلب کیا‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’اجلاس میں فوری اقدامات پر غور کیا گیا تاکہ این ایچ۴۴ کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکے اور پھل سے لدے ٹرکوں سمیت ضروری اشیاء کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ مسافروں اور کسانوں کی مشکلات کم سے کم ہوں۔‘‘










