کشمیر ایک بار پھر بنیادی ضروریات کی قلت سے دوچار ہے اور اس بار مسئلہ گوشت کی شدید کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جموں،سری نگر قومی شاہراہ، جو وادی کے لیے واحد بڑی سپلائی لائن ہے، حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی دنوں سے مسلسل بند ہے۔ اس بندش نے جہاں روزمرہ اشیائے خوردونوش کی ترسیل متاثر کی ہے، وہیں گوشت کی سپلائی تقریباً منقطع ہو جانے سے بحران سنگین رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔
گوشت کے تاجروں اور کوٹھداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں سپلائی بحال نہ ہوئی تو منڈیوں میں گوشت نایاب ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک ہفتے میں تاجروں کو پچیس کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف تاجروں کے نقصان کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ کشمیر کی معیشت پر شاہراہ کی بندش کے براہِ راست اثرات کو بھی واضح کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ طبقہ جو گوشت کے کاروبار سے وابستہ ہے، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
گوشت وادیٔ کشمیر کی خوراک اور ثقافتی روایت کا لازمی جزو ہے۔ شادی بیاہ جیسی تقریبات میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ متعدد شادیوں اور سماجی پروگراموں کو گوشت کی عدم دستیابی کے باعث مؤخر کرنا پڑا ہے۔ یہ امر سماجی اور نفسیاتی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے کیونکہ ایسی تقریبات کے التوا سے خاندانوں کو مالی اور جذباتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انتظامیہ نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ شاہراہ کی بندش کی صورت میں مغل روڈ کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ تاہم تاجروں کا شکوہ ہے کہ مغل روڈ کے ذریعے بھی گوشت اور مویشی لانے والے ٹرکوں کو بار بار مختلف مقامات جیسے لکھن پور، نوشہرہ، سرنکوٹ اور پونچھ میں روک دیا جاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف سپلائی میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ جانوروں اور گوشت کی کوالٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ انتظامیہ کی جانب سے واضح پالیسی اور مربوط حکمت عملی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
گوشت کی مکمل سپلائی بیرون وادی پر انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ کشمیر میں بھی محدود پیمانے پر مویشی پالن ہوتا ہے، لیکن یہ مقامی مانگ پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہ ایک بڑی ساختیاتی کمزوری ہے کہ وادی اپنی خوراک کے اہم جزو کے لیے بیرونی ریاستوں پر مکمل انحصار کرتی ہے۔ اس بحران نے اس حقیقت کو پھر سے اجاگر کیا ہے کہ کشمیر میں مقامی سطح پر گوشت پیدا کرنے کے لیے مربوط پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی بندشوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
عام شہری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ قیمتوں میں اضافہ ہے۔ سپلائی کم ہوتے ہی بلیک مارکیٹ سرگرم ہو جاتی ہے اور گوشت کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ چھوٹے تاجر اور قصائی جو روزانہ کی بنیاد پر اس کاروبار پر انحصار کرتے ہیں، ان کی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یوں یہ بحران براہِ راست عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ وادی میں بار بار شاہراہ کی بندش کے باوجود کیوں کوئی پائیدار حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی۔ ہر سال بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس کے باوجود متبادل انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مغل روڈ کو سال بھر قابلِ استعمال بنایا جانا چاہیے اور ٹرکوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔
مزید یہ کہ مقامی سطح پر مویشی پالن اور پولٹری صنعت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ اگر وادی اپنی ضروریات کا کم از کم ایک بڑا حصہ مقامی سطح پر پورا کرنے لگے تو مستقبل میں کسی بھی شاہراہ کی بندش سے اس قدر شدید بحران پیدا نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت کو اشیائے خوردونوش کی ہنگامی ذخیرہ اندوزی کے لیے بھی واضح نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں عوامی مشکلات کو کم سے کم کیا جا سکے۔










