ملبہ ہٹانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری‘ موسم میں بہتری سے بحالی کے کام میں تیزی آئی ہے:کمار
ڈویڑنل کمشنر جموں رمیش کمار نے جمعہ کو ادھمپور ضلع میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ جموں،سرینگر نیشنل ہائی وے پر بحالی کے کام کا جائزہ لیا جا سکے۔
کمار نے کہا کہ وادی میں ضروری سامان کی ترسیل کو ممکن بنانے کے لیے اگلی صبح تک شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
۲۷۰ کلو میٹر طویل جموں،سرینگر نیشنل ہائی وے جموں خطے میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والے کئی لینڈ سلائیڈز اور سڑک کے حصے بہہ جانے کے باعث مسلسل چوتھے روز بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند رہا۔
کمار، جو سینئر افسران کے ہمراہ تھے، نے ادھمپور کے تھاڑ علاقے میں بحالی کے کام کا معائنہ کیا اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے افسران سے زمینی صورتحال پر بریفنگ لی، حکام نے بتایا۔
ایک بڑے پہاڑی تودے نے شاہراہ کے۲۰۰ میٹر کے حصے کو نقصان پہنچایا، جو جموں اور سرینگر کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ ٹیمیں انتھک محنت کر رہی ہیں تاکہ رابطہ بحال کیا جا سکے اور مسافروں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈویڑنل کمشنر نے کہا’’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کل صبح تک شاہراہ کو دوبارہ کھول دیا جائے تاکہ وادی میں ضروری سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ کوششیں جاری ہیں‘‘۔
کمار نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کے آپریشن جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔ ’’چونکہ موسم بہتر ہو گیا ہے، اس لیے بحالی کے کام میں تیزی آئی ہے‘‘۔
این ایچ اے آئی کے عملے اور مشینری نے ادھمپور،رامبن،بانہال سیکشن میں متعدد لینڈ سلائیڈز کو ہٹانے کے کام میں شدت پیدا کر دی ہے تاکہ متاثرہ مقامات کی جلد بحالی ممکن ہو سکے، حکام نے بتایا۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقے شلگڈی، نچیلانہ، پنتھا ل، ماروگ اور پیراہ (رامبن،بانہال سیکشن) ہیں جہاں حفاظتی دیواریں اور سڑک کے حصے بہہ گئے ہیں اور ایک بڑا لینڈ سلائیڈ یہاں تک کہ پیراہ ٹنل کی ایک ٹیوب میں داخل ہو گیا ہے۔
ادھمپور سیکٹر میں، جکھانی، تھاڑ، بلی نالہ اور دیوال کے درمیان تقریباً ۱۰کلومیٹر سڑک متاثر ہوئی ہے، حکام نے بتایا۔
ہائی وے کی بندش کے باعث کٹھوعہ، سانبہ، جموں، ادھمپور، رامبن اور وادی کشمیر کے مختلف مقامات پر ۳۷۰۰ سے زائد گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، حکام نے کہا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گاڑیاں قاضی گنڈ اور وانپوہ کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں، تاہم شاہراہ کھلتے ہی میوہ بردار ٹرکوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھنے کی اجازت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ۲۶؍اگست کو ادھمپور میں شاہراہ کو شدید نقصان پہنچا تھا، جہاں سرمولی سے ادھمپور تک کا دس کلومیٹر حصہ دھنس جانے کی وجہ سے بحالی کا کام سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔
ذرائع نے مزید کہا کہ رامبن۔بانہال سیکٹر میں ملبہ اور چٹانیں گرنے کے باعث کئی مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت رامبن۔بانہال کا اہم حصہ کلیئرنس کے عمل سے گزر رہا ہے اور امکان ہے کہ آج رات تک آمد و رفت کے لیے بحال کیا جائے گا۔
دوسری جانب درماندہ ڈرائیوروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ٹرکوں میں لدا ہوا میوہ ضائع ہونے کے قریب ہے ، جب کہ وہ خود بھی راشن اور دیگر ضروری وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔
ایک ڈرائیور نے کہا’’ہمارے پاس نہ راشن بچا ہے نہ ہی پیسہ، فوری سہولیات فراہم کی جائیں اور شاہراہ کو جنگی بنیادوں پر بحال کیا جائے ۔‘‘
دریں اثنا حکام نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے راجوری اور پونچھ اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر ، لیہہ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحمل حسب ایڈوائزری جاری ہے ۔
حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ بحالی کا کام مکمل ہونے تک قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے احتراز کریں اور افواہوں پر کان نی دھریں۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ سڑکوں کے متعلق تازہ اپ ڈیٹ حاصل کرنے کے لئے ٹریفک پولیس کے ٹویٹر ہینڈل، فیس بک پیج اور ٹریفک کنٹرول یونٹوں کی طرف رجوع کریں۔
وادی کے لئے شہہ رگ کی حیثیت رکھنے والی اس قومی شاہراہ کے بند ہونے سے اہلیان وادی کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
اس شاہراہ کے بند ہونے کے ساتھ ہی وادی میں اشیائے ضروریہ خاص طور پر اشیائے خورد نوش کی قلت پیدا ہوجاتی ہے ۔
اہلیان وادی کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ کے بند ہوتے ہی بازاروں میں گراں بازاری آسمان چھونے لگتی ہے ۔










