نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی) مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے انٹرپول کی مدد سے ہرِیانہ میں کئی مقدمات میں مطلوب مفرور مجرم منی پال ڈِھلّا کو کمبوڈیا سے ہندوستان واپس لانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔
ڈِھلّا پیرول پر رہائی کے بعد جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بیرونِ ملک فرار ہو گیا تھا۔ سی بی آئی نے اس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی ایجنسیوں سے رابطہ قائم کیا اور اس کی تحویل کو ممکن بنایا۔ اس مقصد کے لیے سی بی آئی نے ہرِیانہ پولیس، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کی مدد لی۔
منی پال ڈِھلّا عرف سونو کمار کو منگل کے روز ہندوستان واپس لایا گیا۔ سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے بتایا،‘‘ڈِھلّا ایک بدنام زمانہ مجرم ہے ، جسے ہرِیانہ پولیس کئی سنگین مقدمات میں تلاش کر رہی تھی۔’’
ڈِھلّا کو 2013 میں قتل، اقدام قتل، غیر قانونی اسلحے کے استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزامات میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے خلاف اصل ایف آئی آر صدر بہادرگڑھ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ وہ پہلے بھی دو دیگر مقدمات میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے ۔
افسر نے بتایا کہ،‘‘جب وہ سزا کاٹ رہا تھا، تو اسے 2018 میں ہِسار سنٹرل جیل سے چھ ہفتے کی پیرول پر رہا کیا گیا تھا، مگر وہ جیل واپس نہیں آیا اور فرار ہو گیا۔’’
ہرِیانہ پولیس کی درخواست پر، سی بی آئی نے 2024 میں انٹرپول کے ذریعے ڈِھلّا کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس حاصل کیا۔
سی بی آئی نے ڈِھلّا کی تلاش کے لیے بینکاک میں موجود نیشنل سینٹرل بیورو (این سی بی) سے رابطہ کیا، جس سے پتہ چلا کہ وہ تھائی لینڈ سے کمبوڈیا گیا تھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے کمبوڈیا کے حکام سے رابطہ کیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ ڈِھلّا نے سونو کمار کے نام سے جعلی پاسپورٹ کے ذریعے سفر کیا تھا۔
افسر نے مزید بتایا‘‘2025 میں انٹرپول کے ذریعے کمبوڈیا میں این سی بی-نوم پین کو اس کی عارضی گرفتاری کا مطالبہ بھیجا گیا۔ نوم پین کے این سی بی نے ڈِھلّا کی گرفتاری کی تصدیق کی اور سفارتی ذرائع سے اس کی باضابطہ حوالگی کی درخواست پر کارروائی کی۔ کمبوڈیا نے ڈِھلّا کو ہندوستانی حکام کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے بعد ہرِیانہ پولیس کی ایک ٹیم اسے واپس لانے کے لیے کمبوڈیا گئی۔’’








