وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تا کہ حالیہ مسلسل بارشوں سے متاثرہ جموں ۔ سرینگر نیشنل ہائی وے اور دیگر اہم سڑکوں کی بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا جا سکے ۔
وزیر اعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ خاص طور پر وادی کشمیر اور جموں ڈویژن کے دور دراز علاقوں میں سڑکوں کی رابطہ کاری کی فوری بحالی ، ٹریفک کی ہموار آمدورفت اورضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے بین المحکمہ ہم آہنگی اور بروقت اپ ڈیٹس کی ضرورت پر زور دیا تا کہ عوامی ضروریات کا فوری جواب دیا جا سکے ۔
چیف سیکرٹری‘ اتل ڈولو نے اجلاس کو این ایچ۴۴ کی صورتحال کے بارے میں بریف کیا اور اس کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا ۔ انہوں نے دھار ۔ مہان پور ، رام بن ۔ گول اور ریاسی ۔ ماہور جیسے ہائی ویز کی عارضی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا تا کہ متاثرہ اضلاع کو دوبارہ جوڑا جا سکے ۔
وزیر اعلیٰ نے بنی ، کشتواڑ ، ریاسی اور اودھمپور جیسے منقطع علاقوں میں راشن ، ایندھن اور ادویات کے ذخیرہ کی صورتھال کے بارے میں دریافت کیا ۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ جب تک سڑکوں کی مکمل بحالی نہ ہو ، متبادل راستوں کے ذریعے ، جیسے کہ کشتوار کیلئے اننت ناگ اور بنی کیلئے بھدرواہ کے ذریعے سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے ۔
ڈویژنل کمشنر جموں نے اجلاس کو بتایا کہ این ایچ۴۴پر بحالی کے کام جاری ہیں ، وادی میں سپلائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور مسافروں اور سیاحوں کی سہولت کیلئے خصوصی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جموں مین راشن ، ایندھن یا دیگر ضروری اشیاء کی کوئی کمی نہین ہے اور منقطع علاقوں کو مناسب ذخیرہ رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔
اسی طرح ڈویژنل کمشنر کشمیر نے بتایا کہ وادی مین ایندھن اور راشن کے کافی ذخائیر موجود ہیں ۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت دی کہ بی آر او ، این ایچ اے آئی ، این ایچ آئی ڈی سی ایل اور دیگر ایجنسیوں کے تحت منقطع سڑکوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور ان کی صورتحال کے بارے میں ان کے دفتر کو دن مین دو بار ، صبح اور شام رپورٹس بھیجی جائیں










