پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بھارت کے خلاف جوہری دھمکی اور اپنے ہی ملک کو ’ڈمپر ٹرک‘ قرار دینے کے چند دن بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ بیان ’شکاری‘ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور اسلام آباد کی’ناکامی‘ کا اعتراف ہے۔
سنگھ نے کہا’’آپریشن سندور کے بعد پاکستان کے ذہن میں کوئی فریب نہیں ہونا چاہیے‘‘ ۔
وزیر دفاع نے یہ بات منیر کے اس بیان کے حوالے سے کہی کہ پڑوسی ملک نئی دہلی کے ساتھ مستقبل کے کسی تنازعہ میں وجود کے خطرے کی صورت میں ہندوستان اور ’نصف دنیا‘ کو مار گرانے کے لیے اپنے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔
سنگھ نے یہ بھی کہا کہ منیر کا اپنے ملک کو ’ڈمپر ٹرک‘ سے تشبیہ دینا جبکہ ہندوستان کو چمکتی ہوئی مرسیڈیز قرار دینا اسلام آباد کی ’اپنی ناکامی‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر دفاع ’اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم‘ سے خطاب کر رہے تھے۔
فلوریڈا کے ٹمپا میں پاکستانی تارکین وطن سے خطاب کرتے ہوئے منیر نے مبینہ طور پر کہا ’’ہندوستان مرسیڈیز کی طرح چمک رہا ہے ، فیراری کی طرح ہائی وے پر آ رہا ہے ، لیکن ہم بجری سے بھرا ڈمپر ٹرک ہیں۔ اگر ٹرک گاڑی سے ٹکرا جائے تو ہارنے والا کون ہوگا ؟ ‘‘ سنگھ نے کہا کہ یہ تبصرے پاکستان کی ناکامی کا اعتراف ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ان کے بیان پر پاکستان اور دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سب نے کہا کہ اگر دو ممالک نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی اور ایک ملک نے محنت ، ٹھوس پالیسیوں اور دور اندیشی کے ذریعے فیراری جیسی معیشت کی تعمیر کی ، جب کہ دوسرا اب بھی ڈمپر کی حالت میں ہے ، تو یہ ان کی اپنی ناکامی ہے۔
سنگھ نے منیر کے جوہری خطرے کا براہ راست حوالہ دیے بغیر کہا کہ آپریشن سندور نے سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ہندوستان کے نقطہ نظر کو ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف نے جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر شکاری ذہنیت کی طرف اشارہ کیا ہے جس کا پاکستان اپنے آغاز سے ہی شکار رہا ہے۔
وزیر دفاع کاکہنا تھا’’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں پاکستانی فوج کے اس فریب کو توڑنا چاہیے۔ آپریشن سندور کے بعد ان کے ذہنوں میں اس طرح کا فریب پیدا نہیں ہونا چاہیے تھا‘‘۔
سنگھ نے کہا ’’لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہندوستان کی خوشحالی ، ہماری ثقافت اور ہماری اقتصادی خوشحالی کے ساتھ ساتھ ہماری دفاعی صلاحیتیں اور ہماری قومی عزت کیلئے لڑنے کا جذبہ بھی اتنا ہی مضبوط رہے‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ملک کی تہذیب میں لڑائی کا جذبہ زندہ رہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سوچ ترقی اور امن پر مبنی ہے۔ ’’ہمارے لیے ، الگ تھلگ ترقی کافی نہیں ہے۔ بلکہ اجتماعی ترقی زیادہ اہم ہے‘‘۔
بھارت نے ۷مئی کو آپریشن سندور کا آغاز کیا ، جس میں ۲۲؍ اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں نے چار دن کی شدید جھڑپوں کو جنم دیا جو ۱۰ مئی کو فوجی کارروائیوں کو روکنے کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی۔
اپنے خطاب میں سنگھ نے غیر ملکی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔
ان کاکہنا تھا’’میں تمام غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ آئیں اور ہندوستان کے متحرک دفاعی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری کریں۔ ہم آپ کو تمام ضروری کلیئرنس فراہم کریں گے اور مدد فراہم کریں گے۔ ہمارا میک ان انڈیا صرف بھارت تک محدود نہیں ہے۔ جب آپ میک ان انڈیا کریں گے تو آپ دنیا کیلئے بنائیں گے










