جموں کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز کالعدم جماعت اسلامی (جی ای آئی) اور اس سے وابستہ فلاح عام ٹرسٹ (ایف اے ٹی) سے مبینہ طور پر وابستہ۲۱۵؍اسکولوں کی منیجنگ کمیٹیوں کو اپنے قبضے میں لینے کا حکم دیا۔
ایک سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی منفی رپورٹوں کے بعد آیا ہے جس میں ان اسکولوں کی شناخت براہ راست یا بالواسطہ طور پر کالعدم تنظیم سے منسلک ہونے کے طور پر کی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ان کی موجودہ منیجنگ کمیٹیوں کی میعاد یا تو ختم ہو چکی تھی یا منفی رپورٹ کی گئی تھی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان اسکولوں کا انتظام اب متعلقہ ضلعی مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر سنبھال لیں گے ، جو مناسب تصدیق کے بعد نئی کمیٹیوں کی تجویز پیش کریں گے۔
حکومت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اداروں میں داخلہ لینے والے طلباء کا تعلیمی مستقبل کسی بھی طرح متاثر نہ ہو۔ ضلعی مجسٹریٹ کو اسکولی تعلیم کے محکمے کی مشاورت سے کہا گیا ہے کہ وہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے اصولوں کے مطابق معیاری تعلیم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کریں۔
یہ اقدام جموں کشمیر اسکول ایجوکیشن رولز۲۰۱۰کی دفعات کے تحت آتا ہے ، جسے ۲۰۱۸ کے ایس آر او ۲۹۲؍ اور۲۰۲۲ کے ایس او۱۷۷ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
اننت ناگ ضلع میں ایسے اسکولوں کی تعداد۳۷ جبکہ سرینگر ضلع میں یہ تعداد۴ہے









