نئی دہلی، 20 اگست (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی گریجویشن ڈگری کے تنازعہ سے متعلق کیس میں اپنا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
جسٹس سچن دتہ کی سنگل بنچ نے اس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 27 فروری کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) کو عدالت کو ریکارڈ دکھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کی عرضی پر سماعت کے بعد 23 جنوری 2017 کو سنٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے حکم پر روک لگا دی تھی۔
سی آئی سی نے 21 دسمبر 2016 کو درخواست گزار نیرج کو ان تمام طلبہ کے ریکارڈ کا معائنہ کرنے کی اجازت دی تھی جنہوں نے 1978 میں دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کا امتحان پاس کیا تھا۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ مسٹر نریندر مودی نے اسی سال گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سی آئی سی کے 2016 کے حکم کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔
تاہم مسٹر تشار مہتا نے دلیل دی تھی کہ یونیورسٹی کو متعلقہ ڈگری کا ریکارڈ عدالت کو دکھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا، "یونیورسٹی کو عدالت کے سامنے ریکارڈ دکھانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ وزیر اعظم مودی کی بیچلر آف آرٹس کی ڈگری 1978 کی ہے ۔”









