جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں رواں سال کے دوران فش فارمنگ کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں کئی افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں، جہاں نامعلوم افراد کی جانب سے زہر ڈالنے کے نتیجے میں کم از کم۵۰ ہزار مچھلیاں ہلاک ہوگئیں۔
اس مجرمانہ کارروائی کے سبب ضلع کے مختلف علاقوں میں قائم ۹ فش فارمز تباہ ہوگئے، جن سے مالکان کو تقریباً ۲۱ لاکھ روپے کا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
شوپیان میں فی الحال کل ۷۲ فش فارمز موجود ہیں، جن سے سینکڑوں افراد اپنی روزی روٹی حاصل کررہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بے روزگار نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں، جنہوں نے یا تو اپنی زندگی بھر کی کمائی ان فارمس میں لگائی یا بینکوں سے قرضہ لے کر یہ کاروبار شروع کیا۔ تاہم چند خود غرض اور منفی عناصر نے ان کا روزگار بے دردی سے چھین لیا۔
متاثرہ علاقوں میں زورہ، ہیف، امام صاحب، علیال پورہ، نارہ پورہ اور دیگر مقامات شامل ہیں جہاں فش فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ معاملہ متعلقہ پولیس اسٹیشنوں اور محکمے تک پہنچایا گیا ہے مگر اب تک کسی بھی شخص کو نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کئے گئے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز شوپیان، فیاض احمد فیاض نے اس سلسلے میں بتایا ’’ضلع میں اس وقت کل ۷۲ فش فارمز ہیں۔ رواں برس کے دوران اب تک ۷فارمز کو زہر دے کر تباہ کیا گیا، ۵۰ ہزار مچھلیاں مار دی گئیں اور قریب ۲۱ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ گزشتہ روز مزید دو فارمز کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے نقصانات کا تخمینہ ابھی لگایا جارہا ہے‘‘۔
متاثرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری مالی معاونت فراہم کی جائے، تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ فی الحال فش فارمنگ کو کسی بھی انشورنس کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے سبب حادثے کی صورت میں فارمرز کو کوئی تحفظ حاصل نہیں رہتا۔









