امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی الاسکا میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے علاحدہ ملاقات ہوئی ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں، اور یوکرین کو اس پر راضی ہونا چاہیے لیکن شاید وہ نہ ہو۔ یوکرینی صدر زیلنسکی کو میری نصیحت یہ ہے کہ وہ معاہدہ کریں۔”
ہفتے کے روز "فوکس نیوز” پر نشر ہونے والے انٹرویو میں انھوں نے انکشاف کیا کہ زیلنسکی، پوتین اور امریکی صدر کے درمیان ایک ملاقات کے لیے تیاری جاری ہے۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ پوتین کے ساتھ حتمی معاہدہ نہیں ہوا تاہم "میں پوتین کے ساتھ ملاقات کو 10 میں سے 10 نمبر دیتا ہوں۔”
اُنھوں نے مزید کہا "ہم نے ملاقات میں کئی نکات پر بات چیت کی اور اب بھی ایک یا دو اہم نکات باقی ہیں جن پر پوتین اور زیلنسکی کے ساتھ اتفاق ہونا ہے”۔ ٹرمپ کے مطابق مذاکرات میں نیٹو، سیکیورٹی اقدامات اور علاقوں سے متعلق امور شامل تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک کو روس کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے۔
اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ پوتین کے ساتھ الاسکا میں ملاقات کے دوران اُنھوں نے "بڑی پیش رفت” حاصل کی ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا بہت سے نکات تھے جن پر ہم متفق ہوئے، اگرچہ اُن میں سے بیشتر مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے، لیکن کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔”
اپنی مختصر تقریر میں اُنھوں نے کہا "ہم روس کے ساتھ اختلافات سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور زیادہ تر مسائل حل کرنے کی راہ پر ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ یوکرینی صدر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کو الاسکا اجلاس کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ہفتے کو کہا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مذاکرات دونوں ملکوں کو تصفیے کے راستے تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پیسکوف نے کہا "بات چیت واقعی بہت مثبت رہی۔ یہی گفتگو ہمیں پر اعتماد انداز میں آگے بڑھنے اور تصفیے کے راستے تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔”
البتہ اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس تصفیے کی بات کر رہے ہیں۔
امریکا میں روس کے سفیر الیگزینڈر ڈارشیف نے بھی ہفتے کو کہا کہ روس اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے نکات حل کرنے کے لیے جلد نئی مشاورت ہو گی۔ اُن کے مطابق "مستقبل قریب میں ایک اور دور کی مشاورت متوقع ہے، جسے ہم دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کے نکات کے ازالے کے طور پر دیکھتے ہیں۔”
الاسکا کے شہر اینکریج میں قائم "ایلمنڈورف – رچرڈسن” فوجی اڈے پر جمعے کے روز ہونے والی "تاریخی سربراہ ملاقات” دو گھنٹے پینتالیس منٹ جاری رہی۔
اس اجلاس میں کئی تبدیلیاں بھی ہوئیں … دونوں صدور کے مترجمین کے ساتھ بند کمرہ ملاقات کے بجائے اسے "تین بمقابلہ تین” اجلاس میں بدل دیا گیا جس میں ٹرمپ کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف شامل ہوئے۔ دوسری جانب پوتین کے ساتھ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور اُن کے خارجہ پالیسی مشیر یوری اوشاکوف شریک ہوئے۔
بعد ازاں طے شدہ دوپہر کے کھانے پر وسیع اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔










