تل ابیب، 17 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے، جسے اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔
یہ ملاقات پیر کے روز کشنر کے مصر کے شہر العلمین کے دورے کے ایک روز بعد ہو رہی ہے، جہاں انہوں نے قطری، ترک اور مصری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کی۔ ان کے ہمراہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ڈائریکٹر جنرل نکولائی ملادینوف اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی تھے۔
کشنر نے حماس کی سیاسی قیادت کے ارکان سے بھی ایک نایاب ملاقات کی۔ معاملے سے واقف ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ملاقات کا مقصد ’’روڈ میپ میں شامل ذمہ داریوں کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات میں تبدیل کرنا‘‘ تھا۔ جولائی کے اواخر میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کا سہرا امریکہ کی قیادت میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ کو دیا گیا، جس کا افتتاح فروری 2026 میں ہوا تھا۔ اس میں تقریباً 40 ممالک شامل ہیں، جن میں اسرائیل اور کئی عرب ممالک بھی شامل ہیں، تاہم فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ ٹرمپ کو اس بورڈ کا تاحیات چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
اکتوبر میں دوبارہ انتخاب کی کوشش کرنے والے نیتن یاہو نے عوامی طور پر اس منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔ انہیں منصوبے کی اس شق پر اعتراض ہے جس کے تحت حماس بتدریج غیر مسلح ہوگی اور غزہ کی حکمرانی ایک بین الاقوامی فورس کے حوالے کرے گی، جبکہ اس کے بدلے اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کرے گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے منصوبے کو قبول کرلیا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں اپنی فوجوں کا انخلا اور حملے روکنا شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے ’بورڈ آف پیس‘ کے عہدیداروں نے تصدیق کی تھی کہ کشنر سفارتی تعطل ختم کرنے کے لیے ایک وفد کی قیادت کریں گے، جو مصر اور اسرائیل کا دورہ کرے گا۔ ’بورڈ آف پیس‘ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 2025 کے اواخر میں طے پانے والی ایک وسیع تر جنگ بندی کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں کم از کم 1,260 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔






