ڈھاکہ/نئی دہلی، 17 اگست (یواین آئی) بنگلہ دیش نے اتوار کے روز ہندستان سے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کی اپنی درخواست پر جلد کارروائی کرنے اور وزیرِ اعظم طارق رحمان کے دورہ ہند کے لیے "سازگار ماحول” بنانے میں مدد کرنے کی اپیل کی۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان شاہد الکریم نے وزارت میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، "ہم نے اس معاملے میں اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اس دورے کے لیے مناسب ماحول تیار کیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے کہا، "اس سمت میں ہم نے ہندستانی حکام سے شیخ حسینہ اور دیگر فرار ملزمان کی حوالگی کی ہماری درخواست پر جلد کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔”
ترجمان نے کہا کہ مسٹر طارق رحمان کے ہندستان کے دو طرفہ دورے کے امکانات پر بنگلہ دیش اور ہندستان کے حکام گزشتہ کئی ہفتوں سے ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں پانچ اگست کو محترمہ حسینہ کی جانب سے کھلے عام میڈیا سے بات چیت کیے جانے کے بعد یہ عمل متاثر ہوا۔ بنگلہ دیش کے مطابق، شیخ حسینہ کو ملک کے نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔
بنگلہ دیش نے محترمہ حسینہ کی حوالگی کے علاوہ ‘انقلاب منچ’ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان کو بھی ہندستان سے سونپنے کی درخواست کی ہے۔ بنگلہ دیش نے یہ مطالبہ دونوں ملکوں کے درمیان طے حوالگی کے معاہدے کے تحت کیا ہے۔
ترجمان نے کہا، "ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں۔” رپورٹس کے مطابق، وزیرِ اعظم طارق رحمان کے 20 سے 25 اگست کے درمیان ہندستان آنے کا امکان ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنی "بنگلہ دیش فرسٹ” پالیسی پر قائم رہے گا اور خود مختارانہ برابری، قومی وقار، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور باہمی مفادات کی بنیاد پر ہندستان اور دیگر ممالک و پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دیتا رہے گا۔
مسٹر طارق رحمان کے ممکنہ دورۂ ہند پر قیاس آرائیوں نے 10 اگست کو ڈھاکہ میں ہندستانی ہائی کمشنر دنیش ترویدی اور وزیرِ اعظم رحمان کی ملاقات نیز اگلے دن مسٹر ترویدی کے نئی دہلی کے دورے کے بعد تیز ہو گئی ہیں۔ مسٹر ترویدی نے 11 اگست کو وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی تھی۔
اس سے قبل بنگلہ دیش نے پانچ اگست کو نئی دہلی سے محترمہ حسینہ کی آن لائن میڈیا بات چیت پر شدید ناراضگی ظاہر کی تھی۔ یہ بات چیت ان کے اقتدار گنوانے کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر ہوئی تھی۔ محترمہ حسینہ نے اس دوران کہا تھا کہ وہ اس سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس لوٹیں گی، چاہے انہیں جیل بھیجا جائے یا ان کا قتل کر دیا جائے






