ماسکو،17 اگست (یو این آئی) روس کے مغربی علاقے بیلگورود میں یوکرین کے میزائل حملے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 14 سالہ بچے سمیت 4 دیگر زخمی ہوگئے۔
بیلگورود کے قائم مقام گورنر الیگزینڈر شواوف نے سرکاری حمایت یافتہ ’میکس‘ پلیٹ فارم پر بتایا کہ یوکرین کا حملہ پیر کے روز والوئسکی ضلع کے گاؤں کولوسکوو میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک عمارت ’’جل گئی‘‘ جبکہ ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ کولوسکوو یوکرین کی شمال مشرقی سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر (10 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسی دوران روسی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوگئے۔ جنوب مشرقی علاقے زاپوریژیا میں روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔ شمال مشرقی یوکرین کے علاقے سومی میں روسی گولہ باری سے کم از کم 2 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
ایمرجنسی سروسز نے بتایا کہ وسطی یوکرین کے دنیپروپیٹروفسک علاقے میں روسی حملے میں کم از کم 5 افراد زخمی ہوئے، جبکہ شمال مشرقی خارکیف کے علاقے ایزیوم میں روسی فوج کے دو گائیڈڈ بم حملوں کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔ جنوبی علاقے خیرسون میں روسی حملوں میں 5 افراد زخمی ہوئے۔ جنوبی یوکرین کے علاقے اوڈیسا میں روسی حملے نے ازمائیل ضلع میں بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی حکام نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر بتایا کہ رات بھر ہونے والے حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ حملے میں ٹوگو کے پرچم بردار ایک شہری جہاز کو بھی نقصان پہنچا۔ رومانیہ کی سرحد کے قریب واقع ازمائیل دریائے ڈینیوب پر یوکرین کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ یہ حملے ایک روز بعد ہوئے جب روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے علاقوں کے اندر گہرائی تک میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جن میں دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ محاذ پر لڑائی تقریباً تعطل کا شکار ہونے اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ مذاکرات منجمد ہونے کے باعث دونوں متحارب ممالک نے میزائل حملوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 2022 میں جنگ کے ابتدائی مہینوں کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
روس نے فروری 2022 میں مکمل جنگ شروع کرنے کے بعد سے یوکرین کے مختلف علاقوں پر تقریباً روزانہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ حالیہ عرصے میں روس نے ایسے بیلسٹک میزائلوں کے استعمال میں بھی اضافہ کیا ہے جنہیں روکنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی سطح پر فضائی دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی پر دباؤ بڑھا اور یوکرین کو فضائی دفاعی ہتھیاروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
یوکرین نے بھی روس کے سب سے بڑے آن لائن ریٹیلر ’وائلڈ بیریز‘ سے وابستہ گوداموں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ کمپنی روسی ڈرونز کے پرزے فروخت کرتی ہے اور روسی فوجیوں کو سامان فراہم کرتی ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان حملوں کے ساتھ ساتھ روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا مقصد روس کی جنگی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف جولائی میں یوکرین میں 437 شہری ہلاک ہوئے، جو مئی 2022 کے بعد کسی ایک ماہ میں شہری ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
روسی حکام کے مطابق جولائی میں یوکرین کے حملوں میں 79 شہری ہلاک ہوئے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہ تعداد ہے۔






