وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس ماہ کے آخر میں متوقع دورئہ چین سے قبل چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی پیر کو دو روزہ دورے پر ہندوستان پہنچیں گے ۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کو بتایا کہ وانگ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی معاملات پر تبادلۂ خیال کے علاوہ وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات بھی کریں گے ۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کے رکن اور وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ مسٹر ڈوبھال کی دعوت پر ہو رہا ہے ۔
وانگ یی اور اجیت ڈوبھال کے درمیان خصوصی نمائندہ سطح کی بات چیت ہوگی، جو ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی مسئلے پر مذاکرات کا۴۲واں دور ہوگا۔ اس کے بعد چینی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر جے شنکر سے بھی دوطرفہ گفتگو کریں گے ۔
وزیرِ اعظم مودی کے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی میٹنگ میں شرکت سے قبل وانگ یی کا یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے ۔
دونوں ممالک۰۲۲۰میں گلوان میں فوجی جھڑپ کے بعد سے سرحدی صورتحال کو معمول پر لانے اور تعلقات کی بحالی کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گزشتہ برس طے پانے والی مفاہمت کے بعد سرحدی تنازع کے چند امور پر اتفاقِ رائے بھی ہو چکا ہے ۔ ہندوستان اس تنازع کے مستقل حل کا خواہاں ہے ۔
امریکہ کی جانب سے ہندوستانی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں اضافے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں بھی اس دورے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ہندوستان حالیہ دنوں میں روس کے ساتھ ساتھ چین سے بھی رابطے مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔
وزیرِ خارجہ ڈاکٹر جے شنکر آئندہ ہفتے روسی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے لیے ماسکو روانہ ہوں گے ، جبکہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال حال ہی میں روس کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔
اس دوران ہندوستان نے الاسکا میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی سربراہی ملاقات کے دوران روس،یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر سنگھ جیسوال نے ہفتے کے روز کہا، ہندوستان الاسکا میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات کا خیر مقدم کرتا ہے ۔
دونوں رہنمائوں کے درمیان بات چیت میں پیش رفت کی وجہ سے یوکرین اور روس کے درمیان تنازع کے جلد حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا،ہندوستان سربراہی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتا ہے ۔ آگے بڑھنے کا راستہ صرف مذاکرت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ دنیا یوکرین تنازع کا جلد خاتمہ چاہتی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں کی ملاقات بے نتیجہ رہی ہو، لیکن اس سے کئی مثبت اشارے ملے ہیں۔
پوتن اور ٹرمپ کے علاوہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور روسی صدر کے معاون یوری یوشاکوف اور امریکہ کی طرف سے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف نے بھی شرکت کی جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔ روس یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں یوکرین کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔
امریکہ کی طرف سے روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان پر اضافی درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کے اعلان کے پیش نظر یہ سربراہی اجلاس ہندوستان کے نقطہ نظر سے بہت اہم سمجھا جا رہا تھا










