جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے بادل پھٹنے سے متاثرہ چاشوتی گاؤں میں ہفتے کو مسلسل تیسرے روز بھی بچاؤ اور امدادی کارروائیاں وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔
واضح رہے کہ کشتواڑ کے اس دورافتادہ اور ماچیل مندر کی طرف جانے والے آخری موٹر یبل گائوں چاشوتی میں جمعرات کو بادل پھٹنے اور اس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ہولناک تباہی مچا دی جس میں اب تک کم از کم۲۰؍افراد جاں بحق‘۱۲۰سے زائد زخمی اور ۷۰لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے ۔
جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے ہفتے کی صبح چاشوتی پہنچے ۔اس دوران انہوں نے فوج سے بریفنگ لی اور حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کی حد کو سمجھنے کے لیے ورچوئل ریئلٹی ہیڈسیٹ کا استعمال کیا۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلین پربھات کے ساتھ جمعہ کی رات دیر گئے تباہ شدہ گائوں کا دورہ کیا اور پولیس، فوج، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، بارڈر روڈس آرگنائزیشن (بی آر او) اور مقامی سول انتظامیہ کی جانب سے جاری بچائو اور راحت کاری کا جائزہ لیا۔
ضلع انتظامیہ کے مطابق اب تک۰۶۱سے زائد افراد کو بچایا جا چکا ہے جن میں سے۸۳کی حالت تشویش ناک ہے ۔ متاثرہ علاقے میں کنٹرول روم اور ہیلپ ڈیسک قائم کر دی گئی ہے ، جہاں سے لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔
سانحے کے بعد سے ہزاروں یاتری اور مقامی افراد پڈر اور ہموری کے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بجلی اور موبائل فون کی سروس معطل ہونے سے رابطے میں دشواری پیش آ رہی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق چناب دریا میں کئی لاشیں بہتی ہوئی دیکھی گئیں۔
بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے نے چاشوتی گائوں اور اس کے گردونواح میں تباہی مچا دی، جس میں۶۱رہائشی مکانات، سرکاری عمارتیں، تین مندر، چار واٹر ملز، ایک پل اور درجنوں گاڑیاں بہہ گئیں۔ ایک سیکورٹی کیمپ بھی بہہ گیا جبکہ میلہ کمیٹی کا لنگر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
ادھر سالانہ ماچیل ماتا یاترا، جو ۵۲جولائی سے شروع ہو کر۵ستمبر کو ختم ہونے والی تھی، ہفتہ کو مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہی۔
اس دوران جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بادل پھٹنے کے بعد لاپتہ رشتہ داروں کے بارے میں جواب طلب کرنے والے متاثرین کا غصہ بالکل فطری ہے ، تاہم اس وقت حکومت اور ریسکیو ٹیموں کی ساری توجہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے پر مرکوز ہے ۔
وزیر اعلیٰ ہفتے کے روز کشتواڑ ضلع کے چاشوتی گائوں پہنچےں‘جہاں۴۱اگست کو بادل پھٹنے سے اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے زبردست تباہی مچائی تھی۔
مقامی لوگوں نے اس موقع پر ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی فوری تلاش کا مطالبہ کیا۔
عمر عبداللہ نے میڈیا کو بتایا”میں ان کے غصے کو سمجھ سکتا ہوں۔ لوگ دو دن سے اپنے اہل خانہ کے بارے میں بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا وہ زندہ بچ نکلیں گے یا نہیں۔ اگر زندہ نہیں تو کم از کم ان کی لاشیں اہل خانہ کے سپرد کی جائیں تاکہ وہ آخری رسومات ادا کر سکیں“۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب تک سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد۰۶کے قریب بتائی گئی ہے جبکہ۰۷سے۰۸افراد لاپتہ ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ تعداد۰۰۵یا۰۰۰۱تک پہنچنے کا امکان نہیں جیسا کہ بعض لوگ کہہ رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آئی ایس ایف مشترکہ طور پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں۔ فی الحال یہ ریلیف آپریشن نہیں بلکہ ریسکیو مہم ہے ۔ پہلے ہم جتنے زندہ لوگوں کو نکال سکتے ہیں نکالیں گے ، اس کے بعد لاشیں برآمد کر کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کی کوشش ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ابتدائی طور پر ضلع مجسٹریٹ کے پاس دستیاب۶۳لاکھ روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے مزید رقم فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ماہرین کی ٹیم فیصلہ کرے گی،۶ان کاکہنا تھا”اگر ہم انہیں یہاں سے ہٹا کر ایسی جگہ رکھیں جہاں مزید خطرہ ہو تو کیا یہ درست ہوگا؟ ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے “۔
۱۴؍اگست کو دوپہر قریب۱۲بجکر۲۵منٹ پر بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والی طغیانی نے چسوتی میں عارضی بازار، لنگر، ایک سکیورٹی پوسٹ، ۱رہائشی و سرکاری عمارتیں، تین مندر، ایک۰۳میٹر لمبا پل اور درجنوں گاڑیاں بہا دیں۔اس سانحہ کے بعد سالانہ مچیل ماتا یاترا، جو۵۲ جولائی کو شروع ہوئی تھی اور۵ستمبر تک جاری رہنی تھی، مسلسل تیسرے روز معطل رہی۔
یہ یاتر۱۸ء۵کلومیٹر لمبے ٹریک پر مشتمل ہے جو چاشوتی سے شروع ہو کر ۹۵۰۰فٹ کی بلندی پر واقع مندر تک جاتی ہے










