نئی دہلی// دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے کہا ہے کہ حکومت دہلی نے سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی سمت میں کام کرنا شروع کردیا ہے ۔ دہلی کے
اسکولوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا ہدف رکھاگیا ہے ۔
مسٹر سود نے آج روہنی کے سروودیا ودیالیہ میں محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام پیشہ ورانہ تقرری مہم، روزگار میلہ 2025-2026 میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم نے روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے تفصیلی بات چیت کی کہ وہ کس طرح سرکاری اسکولوں کے بچوں کو اپنی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے منتخب کرتے ہیں،انہیں کتنی تنخواہ اور سہولیات وغیرہ دی جائیں گی، انہوں نے بچوں سے بھی بات چیت کی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ پروگرام صرف ایک پلیسمنٹ ڈرائیو نہیں ہے ، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پیشہ ورانہ تعلیم نے کتنی ترقی کی ہے اور حکومت دہلی آنے والے وقت میں ہر طالب علم کو ایک باعزت اور امید افزا مستقبل دینے کے لیے کس طرح پرعزم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں ملک میں تبدیلی آنا شروع ہوئی ہے ، اب نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے مطابق مناسب مواقع مل رہے ہیں، جس کی وجہ سے عام گھرانوں کے بچے قابلیت کی بنیاد پر بڑے عہدوں پر منتخب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں حکومت دہلی سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے درمیان فرق کو ختم کرے گی۔ حکومت سرکاری اسکولوں کو انفراسٹرکچر، مواقع، مساوات، ٹیلنٹ کو فروغ دینے ، اسکول میں بچوں کے سیکھنے کے نتائج کے لحاظ سے سرکاری اسکولوں کو اپ گریڈ کر رہی ہے ۔ اگلے پانچ سالوں میں دہلی کے ہر اسکول میں نویں، دسویں، گیارہویں، بارہویں جماعت کے ہر کلاس روم میں اسمارٹ کلاس روم، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس، آئی سی ٹی لیب، پرسنل کمپیوٹر فراہم کیے جائیں گے ۔








