ایجنسیز
نئی دہلی//
آج سے شروع ہو ئے مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آپریشن سندور پر بحث کی جائیگی ۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی صدارت میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ میں ایوان میں آپریشن سندور پر بحث کیلئے۱۶گھنٹے کا وقت مختص کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے ۔
بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی پیر کے روز ہونے والی میٹنگ میں آپریشن سندور کے علاوہ انڈین پوسٹل بل کے لیے تین گھنٹے ، انکم ٹیکس بل کے لیے بارہ گھنٹے ، نیشنل اسپورٹس بل کے لیے آٹھ گھنٹے ، منی پور کے بجٹ پر بحث کے لیے دو گھنٹے کا وقت رکھا گیا ہے ۔
تلگو دیشم پارٹی نے میٹنگ میں ایمرجنسی کے۵۰سال پر بحث کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے انوراگ ٹھاکر نے ہماچل میں بارش اور سیلاب پر بات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، ارجن رام میگھوال، کانگریس کے گورو گوگوئی، کے سریش، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی سپریا سولے اور دیگر نے میٹنگ میں شرکت کی۔
اس دوران راجیہ سبھا میں ضابطہ ۱۶۷کے تحت آپریشن سندور پر بحث کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس ضابطے کے تحت چیئرمین کی اجازت سے غیر سرکاری ارکان کی تجویز یا قرارداد پر بحث کرائی جاتی ہے ۔
بحث کے لیے وقت کا فیصلہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے مانسون اجلاس کے پہلے دن پیرکے روز آپریشن سندور کے تحت پہلگام حملے اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور اس کے قبضے والے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فوجی کارروائی سے متعلق مسائل پر بحث کرانے کی تجویز کو مسترد کر دیاتھا۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے صبح کے اجلاس میں کافی دیر تک ہنگامہ کیا اور اس مسئلہ پر ضابطہ۲۶۷کے تحت قانون سازی کے کام کو روک کر آپریشن سندور پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین مسٹر دھنکھڑنے کہا کہ حکومت اس معاملے پر جامع بحث کے لیے تیار ہے اور اس نے اس سلسلے میں ضابطہ۱۶۷کے تحت دیے گئے سمیک بھٹاچاریہ کے نوٹس کو قبول کر لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ دوپہر کو ایوان میں مختلف جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کے بعد بحث کی تاریخ اور وقت کا تعین کریں گے ۔
قبل ازیں ایوان میں برسر اقتدار پارٹی کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس معاملے میں حزب اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھرگے کے بیانات کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس ایوان سے یہ پیغام نہیں جانا چاہئے کہ حکومت اس موضوع پر بحث نہیں کرانا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے ۔
اس دوران پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن کانگریس نے راجیہ سبھا میں رول نمبر ۲۶۷کے تحت پہلگام دہشت گردانہ حملے اور آپریشن سندور پر بحث کے لئے تحریک التواء کا نوٹس دیا ہے ۔
ایوان بالا میں کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری نے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر بحث کیلئے رول۲۶۷کے تحت تحریک التواء کا نوٹس دیا ہے ، جو داخلی سلامتی میں سنگین کوتاہی کی وجہ سے ہوا ہے ۔
وہیں دوسری جانب راجیہ سبھا میں کانگریس کے ہی رکن پارلیمنٹ رندیپ سرجے والا نے بھی سبھی کام کاج روک کر، ان دو مسائل پر بحث کرنے کا نوٹس دیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے ۔ اجلاس کے دوران کل۲۱نشستیں ہوں گے ۔ حکومت نے کل ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی، جس میں دونوں ایوانوں کے کام کو بہتر بنانے اور تمام جماعتوں کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔










