واشنگٹن/نئی دہلی//
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اخبار وال اسٹریٹ جرنل (ڈبلیو ایس جے) میں شائع ہونے والے ایک فحش خط پر اخبار اور اس کے مالک میڈیا موگول روپارٹ مرڈاک اور پبلشر نیوز کارپوریشن کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرنے جا رہے ہیںاخبار کا دعویٰ ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے یہ خط امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو 2003 میں اس کی سالگرہ کے موقع پر لکھا تھا جس میں انہوں نے ایک برہنہ خاتون کا خاکہ بناکر اپنے اور ایپسٹین کی ایک جیسی دلچسپیوں کی بات کی تھی۔ ایپسٹین جنسی جرائم کے لیے بدنام ہو چکا تھا۔ اس کی موت ہوچکی ہے۔ اخبار کی اس خبر پر سیاسی دنیا اور سوشل میڈیا میں شدید بحث جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مسٹر ٹرمپ نے اس خط کو ’فرضی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اخبار اور مرڈاک کو براہ راست خبردار کیا تھا کہ یہ خط ’فرضی‘ ہے اور اگر انھوں نے اسے شائع کیا تو ان کے خلاف عدالت میں قانونی شکایت دائر کی جائے گی۔ اس پوسٹ کے مطابق مرڈوک نے انہیں معاملے کو دیکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس کے پاس کچھ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
صدر کے مطابق اخبار کی ایڈیٹر ایما ٹکر اس معاملے میں کچھ سننے کو تیار نہیں تھیں جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس موضوع پر ان سے براہ راست بات کی تھی۔ انہوں نے اخبار پر جھوٹی، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز خبریں شائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ایس جے کی اس رپورٹ کو ’فرضی خبر‘ (من گھڑت خبروں)کی ایک اور مثال قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی خبریں عوام کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل جو کبھی ایک باوقار اخبار تھا، آج ’نفرت انگیز اور کوڑا‘ بن گیا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وانس نے اخبار کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی زبان کے لیے معذرت خواہ ہوں، لیکن یہ کہانی بالکل گوبر ہے۔ ڈبلیو ایس جے کو اس پر شرم آنی چاہیے۔
مسٹر وینس نے اخبار سے پوچھا ’’وہ خط کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’کیا آپ کو حیرانی نہیں ہوگی کہ انہوں نے اسے شائع کرنے سے پہلے ہمیں کبھی نہیں دکھایا؟ کیا ایمانداری سے کسی کو یقین ہے کہ یہ (خط کی زبان) ڈونالڈ ٹرمپ کی زبان ہے؟‘‘
سوشل میڈیا پر کچھ تبصروں میں اخبار کی تعریف کی گئی کہ اس نے قانونی کارروائی کے خطرے کی پرواہ کیے بغیر اسے شائع کیا ہے۔










