پاکستان میں۹ دہشت گرد اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا گیا‘ہمیں ملکی ہتھیاروں پر فخر ہے :قومی سلامتی کے مشیر
سرینگر//(ویب ڈیسک)
قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران بھارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
جمعے کو ڈوول نے کہا’’مجھے ایک تصویر بھی دکھائیں جس میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈیا کو ہونے والے کسی نقصان کو دکھایا گیا ہو‘‘۔
آئی آئی ٹی مدراس کے۶۲ ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے اجیت ڈوول نے آپریشن سندور کے حوالے سے کوریج کے معاملے میں غیر ملکی میڈیا کی ’تعصب‘ کی بات کی۔
اس آپریشن میں استعمال ہونے والے ملکی سطح پر تیار ہتھیاروں کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا’ ’ہمیں ملکی ہتھیاروں کے استعمال پر فخر ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ اس آپریشن میں کچھ بہترین نظاموں نے کام کیا۔ براہموس ہو، انٹیگریٹڈ ایئر کنٹرول اور کمانڈ سسٹمز ہوں یا ریڈارز‘‘۔
ڈوول نے یہ بھی کہا’’ہم نے پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔‘‘
آپریشن سندورکے حوالے سے غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’غیر ملکی میڈیا کہتا ہے کہ پاکستان نے یہ کیا، وہ کیا’’ مجھے ایک ایسی تصویر بھی دکھائیں جس میں انڈیا کو ہونے والے نقصان کو دکھایا گیا ہو، چاہے شیشہ بھی ٹوٹا ہو‘‘۔
ان کا کہنا تھا یہ آپریشن پاکستان میں ’’صرف سرحدی علاقوں میں ہی نہیں تھا۔ ہمارا کوئی حملہ نہیں چْوکا‘۔ یہ اس حد تک درست تھا کہ ہم جانتے تھے کہ کون کہاں ہے۔ پورا آپریشن پانچ منٹ کم ایک پر شروع ہوا اور ایک بج کر اٹھائیس منٹ پر ختم ہوا۔‘
قومی سلامتی کے مشیر نے کہا’’کیا وہ۱۰مئی سے پہلے اور بعد میں پاکستان کے۱۳؍ایئر بیسز کی تصاویر لے جائیں گے ، چاہے وہ سرگودھا ہو، رحیم یار خان ہو یا راولپنڈی کا چکلالہ ۔ ان دنوں یہ تصویریں پوری دنیا کی سیٹلائٹس سے لی جاتی ہیں۔ کیا کسی تصویر میں ہندوستان کی طرف کوئی نقصان نظر آیا ہے ؟ ہم نے ان کے ۱۳؍ایئر بیسوں پر حملہ کیا، جن میں بھولاری کا ایئر بیس بھی شامل ہے ،جہاں اُن کا‘اواکس’کنٹرول سنٹر ہے ‘‘۔ انھوں نے کہا’’ہم نے ان کے۱۳؍اہم ایئربیسزکے علاوہ کسی اور پر حملہ نہیں کیا۔یہ بالکل درست اور اچوک تھا‘‘۔
آپریشن سندور کو انتہائی درست اور مختصر دورانیے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے ڈوول نے کہا کہ یہ گزشتہ ۴۰سالوں میں بے مثال آپریشن ہے ۔ انہوں نے کہا’’پورا آپریشن صبح۰۵:۱پر شروع ہوا اور صرف۲۳منٹ میں۲۸:۱پر ختم ہوا۔ ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔انھوں نے کہا’’ہم نے پاکستان میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کی شناخت کی، جو ملک کے اندر تھے اور ان پر بڑی درستگی کے ساتھ حملہ کیا گیا اور دیگر مقامات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا‘‘۔
آپریشن سندور کی اثراندازی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ہمارے پاس اس بارے میں مکمل معلومات تھیں کہ کون کہاں ہے اور حملہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرہی کیا گیا، یہ بہت منصوبہ بند آپریشن تھا اور اس کی اصل کہانی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویریں بیان کرتی ہیں‘‘۔
ڈوول کے مطابق، آپریشن سندور اندرون ملک تیار کردہ فوجی ہارڈویئر اور ہتھیاروں کی تعیناتی میں ایک اہم آپریشن ثابت ہوا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک اپنے مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر مقامی بنائے گا کیونکہ یہ قومی سلامتی اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ضروری ہے ۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار ترک کی ضرورت پر زور دیا۔
قومی سلامتی کے مشیر نے کہا’’چین نے۳۰۰؍ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے ۵جی تیار کرنے میں۱۲ سال لگادئیے ۔ اگرچہ ہمارے پاس وقت یا پیسہ نہیں ہے ، لیکن ہم نے صرف ڈھائی سال میں ایک مقامی متبادل تیار کرلیا ہے اور اس کیلئے ہم اپنے نجی شعبے کے بے حد شکرگزار ہیں‘‘۔
ڈوول نے کہا ’’ہم نے بہت دکھ جھیلے ہیں، ہمارے آباؤ اجداد نے دکھ جھیلے ہیں، آپ کا تعلق ایک تہذیب، ایک ایسے ملک سے ہے ، جس نے ہزاروں سالوں میں کئی بار خونریزی اور تذلیل برداشت کی ہے ، ہمارے آباؤ اجداد نے تہذیب اور قوم کے نظریے کو بچانے کیلئے ذلت و تکالیف برداشت کی ہیں۔‘‘










