ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

امریکی سپریم کورٹ کے جج کے گھر کے قریب سےمسلح شخص گرفتار، اقدامِ قتل کا مقدمہ درج

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2022-06-10
in عالمی خبریں
A A
امریکی سپریم کورٹ کے جج کے گھر کے قریب سےمسلح شخص گرفتار، اقدامِ قتل کا مقدمہ درج
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

واشنگٹن//
امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج سمجھے جانے والے جسٹس بریٹ کیونو کی رہائش کے قریب ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مشتبہ شخص نے پولیس کے سامنے اقرار کیا ہے کہ وہ جج کو قتل کرنے کی نیت سے ان کے گھر کے قریب موجود تھا۔
ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے چھبیس سالہ نکولاس جان روسک کے خلاف سپریم کورٹ کے جج کے اقدامِ قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے اور وہ اس وقت حراست میں ہیں۔
عدالتی دستاویز کے مطابق ملزم کالے رنگ کے کپڑے پہن کر بدھ کی صبح جسٹس کیونو کے گھر کے قریب بذریعہ ٹیکسی پہنچا۔ اس کے پاس ایک پستول ، ایک چھری، ہاتھ پاؤں باندھنے کے لیے پلاسٹک کی ہتھکڑی، مرچوں والا اسپرے، ٹیپ اور دیگر اشیا موجود تھیں۔
ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ جسٹس کیونو کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا۔ امریکی ریاست میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں داخل کیے گئے ایک حلف نامے کے مطابق نکولاس نے کہا کہ اس نے پستول جسٹس کیونو کو قتل کرنے کے ارادے سے خریدی تھی۔ حلف نامے میں اس نے یہ بھی کہا کہ وہ جج کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اس حلف نامے میں نکولاس نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کے اسقاطِ حمل سے متعلق حکم نامے کی لیک ہونے والی کاپی کی وجہ سے غصے میں تھا اور حالیہ دنوں میں ریاست ٹیکساس کے شہر یووالڈی میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں 19 بچوں اور 2 اساتذہ کی ہلاکت پر بھی وہ پریشان تھا۔
واضح رہے کہ مئی کے اوائل میں امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو نے سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے پر مبنی ایک لیک کیے گئے مسودے کی تفصیل شائع کی تھی۔ اس دستاویز سے پتا چلا تھا کہ ججوں کی اکثریت 1973 کے اس تاریخی فیصلے کو منسوخ کرنے کے حق میں تھی جس کے تحت امریکہ بھر میں اسقاطِ حمل کو قانونی قرار د دیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے اسقاطِ حمل سے متعلق حکم نامے کے ڈرافٹ کے لیک ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے بعض ججوں کے گھروں اور اعلیٰ عدالت کی عمارت کے باہر مظاہرے ہوئےتھے۔ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی عمارت کے گرد جنگلا لگا کر ارد گرد کی گلیوں کو بند کر دیا تھا اور ججوں کی رہائش گاہوں کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی تھی۔
امریکی سپریم کورٹ اس وقت نیویارک میں اسلحہ رکھنے کے لیے پرمٹ حاصل کرنے کی شرط کے خلاف ایک کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس شرط کو کالعدم قرار دیتی ہے تو نیویارک اور دوسرے بڑے شہروں کی گلیوں میں مسلح پھرنا پہلے سے آسان ہوجائے گا۔
حلف نامے کے مطابق ملزم نکولاس کاخیال ہے کہ قدامت پسند جج کیونو اسلحہ برداری کے قانون کو نرم کرنے کی حمایت کریں گے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق جیسے ہی ملزم نکولاس ٹیکسی سے باہر نکلےتو وہ جسٹس کیونو کے گھر کی سیکیورٹی میں شامل دو امریکی مارشلز کی نظر میں آگئے اور انہیں فوری طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔
عدالتی دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزم نکولاس نے 911 پر کال کر کے پولیس کو بتایا کہ اسے خود کشی کے خیالات آ رہے ہیں اور وہ انٹرنیٹ سے جسٹس کیونو کے گھر کا پتا ملنے کے بعد انہیں قتل کرنے کی نیت سے وہاں پہنچا ہے۔
حلف نامے کے مطابق نکولاس ابھی پولیس کے ساتھ کال پر ہی تھا جب پولیس نے اسے گرفتار کیا۔
بدھ کے روز ہی رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے سپریم کورٹ کے ججوں پر تشدد یا اس کی دھمکی جیسے رویے امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جہاں تک ان کے لیے ممکن ہوسکا، وہ کسی ایسی کارروائی کو روکیں گے اور اس کے مرتکب افراد کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان اینڈریو بیٹس نے خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کو بذریعہ ای میل بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس شخص کو فوری گرفتار کرنے پر حکام کو مبارک باد پیش کی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے اسقاطِ حمل سے متعلق حکم نامے کا مسودہ افشا ہونے کے بعد سے سرکاری حکام کے خلاف تشدد کی دھمکیوں اور خطرات میں اضافہ ہوا ہے جب کہ ملک میں انتہاپسندوں کی جانب سے تشدد بڑھنے کے امکان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

کپوارہ اورشوپیاں میں فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین جنگجو ہلاک

Next Post

امریکہ نے چین کے حمایت یافتہ سائبر خطرے سے کیا خبردار

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

2026-07-16
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
عالمی خبریں

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

2026-07-16
غزہ؛ اسرائیل کی بمباری میں تاریخی مسجد ’العمری الکبیر‘ شہید
عالمی خبریں

جنوبی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں، ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید

2026-07-16
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

2026-07-14
ایران جنگ سے عالمی بحری اور فضائی کارگو سپلائی چین متاثر
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے

2026-07-14
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جائے تو ایران کا سخت رد عمل ہوگا: کاظم غریب آبادی

2026-07-14
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے

2026-07-12
امریکہ کو اسکول کے بچوں کے تحفظ کیلئے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے: ٹرمپ
عالمی خبریں

امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا

2026-07-12
Next Post
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ

امریکہ نے چین کے حمایت یافتہ سائبر خطرے سے کیا خبردار

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.