سرینگر//
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ جموں کشمیر میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں اضافے سے زمینی سطح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
فاروق نے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں نامہ نگاروں کو بتایا’’دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں پہلے بھی ہو چکی ہیں اور مستقبل میں بھی جاری رہیں گے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’میں نے پہلے بھی جھڑپیں دیکھی ہیں اور مستقبل میں بھی دیکھوں گا۔ کشمیر میں جھڑپوں کی تعداد میں اضافے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے‘‘۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی ۲۰۱۷ کے ایک معاملے کے سلسلے میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لئے بڈگام گئے تھے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے نئی عدالت کی عمارت کی تعمیر نو پر بھی زور دیا کیونکہ انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈھانچہ ضلع کے لوگوں کے لئے کافی نہیں ہے۔
فاروق نے کہا کہ ہم حکومت سے نئی عدالت کی تعمیر کی درخواست کریں گے اور جسٹس مسعودی دیکھیں گے کہ یہاں نئی عدالت جدید سہولیات کے ساتھ آئے گی تاکہ لوگ مستفید ہوسکیں۔
دریں اثنانیشنل کانفرنس صدر کا کہنا ہے کہ ۵؍اگست۲۰۱۹کے فیصلے کو یہاں کے لوگوں نے تسلیم ہی نہیں کیا لہذا مرکزی حکومت کو جلدازجلد ریاست کی بحالی کا فیصلہ لینا چاہئے ۔
فاروق نے کہا کہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ کرنے کی خاطر نیشنل کانفرنس اپنے وعدے پر کاربند ہے ۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے سرینگر میں عوامی وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔
این سی صدر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے ، اسی جماعت کی عظیم قیادت کے تاریخی اور انقلابی اقدامات سے ہی یہاں کے غریب ، مظلوم اور مفلوک الحال عوام کو شخصی راج کی غلامی، بے گاری، سود خوانی اور چک داری سے نجات ملی۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے یہاں کے لوگوں کو جمہوری حکومت، عوامی راج، پنچایت راج، مزدور راج اور ووٹ پرچی کا حق بھی دلوایا۔ اسی جماعت کی طفیل لاکھوں کنال اراضی بغیر کسی معاوضے کے غریب عوام کو دی گئی اور راتوں رات ان کی زندگیاں بدل ڈالیں۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ریاست کے خصوصی درجہ کے ساتھ ساتھ اُن تمام حقوق کی فوری بحالی سے ہی جموںکشمیر کے عوام اطمینان کی سانس لے سکتے ہیں کیونکہ یہاں کے عوام نے ۵؍اگست۲۰۱۹کے تمام فیصلوں مسترد کردیا ہے جو طاقت کے بلبوتے پر ہم پر ٹھونس دیئے گئے تھے ۔
سابق وزیر اعلیٰ نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام نے نیشنل کانفرنس کو جو منڈیٹ دیا ہے اس کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ ہمیں ہر حال میں عوام کو مقدم سمجھنا ہے اور کیونکہ عوام کی طاقت کا چشمہ ہوتا ہے اور سرداری عوام کا حق ہے ۔ عوام کے تعاون اور اشتراک سے ہی جماعت کی مضبوطی قائم و دائم رہ سکتی ہے ۔










