دوبئی//
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اس بات پر زور دیا کہ ان کا سب سے بڑا اصول’کم سے کم حکومت‘ زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘ہے اور یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں کم سے کم سرکاری مداخلت کو یقینی بنائے۔
دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ۲۰۲۴ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے گلوبل گورننس اداروں میں اصلاحات پر زور دیا اور کہا کہ ترقی پذیر دنیا کے خدشات کو فروغ دینے اور عالمی فیصلہ سازی میں گلوبل ساؤتھ کی شرکت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
مودی نے کہا کہ میرا سب سے بڑا اصول’کم سے کم حکومت‘زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘ رہا ہے۔ ’’میں نے ہمیشہ ایک ایسا ماحول بنانے پر زور دیا ہے جس میں شہریوں میں انٹرپرائز اور توانائی کا احساس بڑھے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ یقینی بنانا حکومت کا کام ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں حکومت کی مداخلت کم سے کم ہو‘‘۔
وزیر اعظم مودی نے کوویڈ ۱۹کی وجہ سے درپیش چیلنجوں کا بھی ذکر کیا۔
مودی نے کہا’’ہم ماہرین سے بہت کچھ سن رہے ہیں کہ کووڈ کے بعد لوگ حکومتوں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم، ہندوستان میں، ہم نے اس کے بالکل برعکس دیکھا ہے۔ گزشتہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کا بھارتی حکومت پر اعتماد مضبوط ہوا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کو ان کی حکومت کے ارادے اور عزم پر اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ ہم نے لوگوں کی امنگوں کو ترجیح دی ہے۔ ہم لوگوں کی ضروریات کے بارے میں حساس ہیں۔’’ ہم نے لوگوں کی ضروریات اور خوابوں کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اوپر سے نیچے اور نیچے کی سطح کے نقطہ نظر کے ساتھ، ہم پورے معاشرے کے نقطہ نظر کے ساتھ بھی آگے بڑھے ہیں‘‘۔
مودی نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود خوراک، صحت، پانی اور توانائی کے تحفظ سمیت پچھلی صدی کے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایسی حکومتوں کی ضرورت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلیں۔
وزیر اعظم مودی اپنے دو روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں منگل کو متحدہ عرب امارات پہنچے۔ بعد ازاں آج شام انہوں نے ابوظہبی میں بی اے پی ایس مندر کا افتتاح کیا۔
یہ مندر بوچاسن کے رہائشی شری اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) نے بنایا ہے ۔
راجستھان کے گلابی ریت کے پتھر سے بنے اس مندر کی تعمیر پر ۷۰۰کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ مندر ۲۷؍ایکڑ پر بنایا گیا ہے اور اس کی اونچائی۱۰۸فٹ ہے ۔ اپنے بے مثال فن تعمیر اور شان و شوکت کی وجہ سے یہ مندر پوری دنیا کی توجہ مبذول کر رہا ہے ۔
مودی نے اس مندر میں پوجا کی اور آرتی میں بھی حصہ لیا۔یہ ہندو مندر میں خلیجی ممالک کے سات چوٹیوں پر مشتمل ہے ، جو سات امارات کی نمائندگی کرتا ہے ۔
واضح رہے کہ ہندو مندروں میں جانوروں اور پرندوں کی نقش و نگار نہیں کی جاتی ہے ۔ تاہم خلیجی ملک کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مندر کی دیواروں کے پتھروں پر اونٹ اور قومی پرندے عقاب کو بھی نقش کیا گیا ہے ۔ یہ ہندو مندر ابوظہبی شیخ زائد ہائی وے پر الرحبہ کے قریب تقریباً ۲۷؍ایکڑ اراضی پر بنایا گیا ہے ۔
اس مندر میں بھگوان شیو اور ان کے خاندان کے افراد کی مورتیوں کے ساتھ رادھا کرشن، سیتا رام، بھگوان جگن ناتھ اور تروپتی بالاجی کی مورتیاں بھی نصب کی گئی ہیں۔
مندر کے گربھ گرہ میں پوجا کرنے کے بعد مودی اس مندر کی ہر منزل پر گئے اور اس مندر سے جڑے ہر پہلو کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اس مندر کی تعمیر میں تعاون کرنے والے مزدوروں، انجینئروں اور لوگوں کے درمیان پہنچے اور ان کا خیرمقدم کیا۔