سرینگر//
کانگریس کی رکن پارلیمان رجنی پاٹل نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ سابق کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کی حیثیت پارٹی کے سب سے چھوٹے کارکن سے بھی کم ہے۔
سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اْن کا کہنا تھا ’’آزاد صاحب کوئی قدآور لیڈر نہیں ہیں۔ جموں و کشمیر میں کتنی بار انتخابات جیتے؟ مہاراشٹرا سے اْن کو پارلیمنٹ بھیجا گیا، جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ لوک سبھا انتخابات میں جتندر سنگھ سے ہار گئے‘‘۔
پاٹل کا مزید کہنا تھا ’’پچاس برسوں تک پارٹی سے سب کچھ ملا اور آج الگ ہو گئے، افسوس تو ہوتا ہے لیکن پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے‘‘۔
کانگریسی لیڈر کاکہنا تھا کہ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کے لیے چار نام آزاد نے ہی دیے تھے۔ اْن میں سے ہی وکر رسول کا انتخاب کیا گیا۔ کانگریس کے ہر وفد کے وہ حصہ ہوتے تھے لیکن انہیں کانگریس نے سب کچھ دیا لیکن آج وہ کانگریس سے الگ ہو گئے۔
اس دوران سرینگر میں ریاستی کانگریس کمیٹی کے نو منتخب مندوبین کی ایک میٹنگ میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں راہل گاندھی پر انڈین نیشنل کانگریس کے اگلے صدر کے طور پر پارٹی کی قیادت سنبھالنے پر زور دیا گیا۔
یہ قرارداد جے کے پی سی سی کے صدر وقار رسول وانی نے پیش کی۔ قرارداد کی حمایت وانی نے کی جبکہ پارٹی لیڈران و کارکنان نے رائے پر اتفاق کرکے اسے منظور کر لیا۔
قبل ازیں، رنجن نے ایک قرارداد پیش کی جس میں کانگریس صدر کو جموں اور کشمیر سے نئے پی سی سی صدر اور اے آئی سی سی کے اراکین کو نامزد/ منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا۔
قرارداد کی توثیق وقار رسول نے کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ سرینگر میں منعقدہ میٹنگ کی صدارت پی آر او رنجیت رنجن، ممبر پارلیمنٹ، نے کی جبکہ اے آئی سی سی انچارج جے کے افیئرز، رجنی پاٹل، ممبر پارلیمنٹ بھی موجود تھی۔
اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رنجن کا کہنا تھا کہ ’’کانگریس کا صدر کوئی بھی بنے ہم اس کا احترام کریں گے۔ پردیش کانگریس کے صدر نے قرارداد پیش کی ہے کہ راہل گاندھی کو صدر منتخب کیا جائے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ فی الوقت سونیا گاندھی انڈین نیشنل کانگریس کی قائم مقام صدر ہیں۔









