سری نگر؍۵نومبر
نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ممکنہ طور پر جمعہ کو پارٹی کے ناراض اراکین اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ ملاقات صبح ساڑھے دس بجے گپکار میں ان کی رہائش گاہ پر ہوگی۔
ملاقات سے ایک روز قبل جمعرات کو این سی کے رکن اسمبلی حضرت بل سلمان ساگر نے پارٹی میں بغاوت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کی شکایات معمولی نوعیت کی ہیں اور بات چیت سے ان کا ازالہ ہو جائے گا۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ساگر نے کہا: ’’آپ (میڈیا) لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ ہماری جماعت میں تضاد ہے۔ یہ آپ لوگوں کی بڑی غلط فہمی ہے۔ کوئی تضاد نہیں ہے۔ اراکین کی چھوٹی موٹی شکایتیں ہیں۔ شاید پہلے سے ہی وقت طے ہو گیا ہے۔ عزت مآب وزیر اعلیٰ ان سے ملیں گے۔ لہٰذا مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو زیادہ قیاس کرنے کی ضرورت ہے۔ شکایتیں کوئی بڑی نہیں ہیں اور مجھے پوری امید ہے کہ بات چیت سے ان سب کا ازالہ ہو جائے گا۔‘‘
سلمان نے کہا’’ہماری جماعت میں کوئی بغاوت نہیں ہے۔ فاروق صاحب اور عمر صاحب چیزوں پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور سب کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کوئی لاپروائی نہیں ہوئی ہے۔ بعض مصروفیات کی وجہ سے ان چھوٹی شکایتوں کا وقت پر ازالہ نہیں ہو سکا۔‘‘
ان لوگوں پر چوٹ کرتے ہوئے جو ان کے مطابق پارٹی میں اختلافات بڑھنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، ساگر نے کہا: ’’وہ لوگ جو خوش فہمی میں تھے کہ تضاد بڑھ رہا ہے، کل مایوس ہوں گے جب پارٹی لیڈرشپ اراکین سے ملاقات کرے گی۔ ہر گھر میں چھوٹی چھوٹی پریشانیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر میں بھی تھیں، ان کا ازالہ کیا جائے گا۔‘‘
پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی گزشتہ کچھ دنوں سے حالیہ کابینی توسیع کے بعد اپنی شکایات کے سلسلے میں مشاورت کر رہے ہیں۔ ان شکایات میں حکمرانی اور تنظیمی امور سے متعلق مطالبات شامل بتائے جاتے ہیں۔ سینئر لیڈر مبارک گل نے بھی بدھ کو کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر اپنی ناراضگی کے حوالے سے پریس کانفرنس طلب کی تھی، لیکن آخری لمحے میں اسے ملتوی کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









