ہیملٹن، 31 اکتوبر (یواین آئی) پانچ میچوں کی ٹی20 سیریز پہلے ہی اپنے نام کرچکا ہندوستان اتوار کو سیڈن پارک میں کھیلے جانے والے پانچویں اور آخری میچ میں کامیابی کے ساتھ سیریز کا اختتام کرنا چاہے گا۔ دوسری جانب میزبان نیوزی لینڈ آکلینڈ میں آخرکار واپسی کی راہ تلاش کرنے کے بعد یہ ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہوگا کہ اس کی کامیابی محض اتفاق نہیں تھی۔
چوتھے میچ میں 87 رنز کی شکست نے ہندوستان کی 3-0 کی مضبوط برتری کو کچھ کم کیا۔ اس نتیجے نے آخری میچ سے قبل نیوزی لینڈ کو حوصلہ دیا ہے اور ہندوستان کو یاد دلایا ہے کہ ٹی20 کرکٹ میں غلبہ کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی شاندار کارکردگی نے پورے میچ کا رخ بدل دیا۔ ہندوستان کے لیے اب اس شکست کے بعد ردعمل اہم ہوگا۔ اس کے سامنے صرف ایک اور جیت حاصل کرنے کا چیلنج نہیں بلکہ اس جارحانہ ردھم کو دوبارہ حاصل کرنے کا بھی ہدف ہوگا، جس نے پہلے تین میچوں میں اسے روکنا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔
سیریز میں ہندوستان کی جارحانہ بلے بازی سب سے نمایاں رہی ہے۔ ابھیشیک شرما نے ایسی دھماکہ خیز شروعات کی ہے جو حریف کے سنبھلنے سے پہلے ہی میچ کو اس کی گرفت سے دور لے جاسکتی ہے۔ اتوار کے میچ میں بھی ابھیشیک کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی۔ نئی گیند پر حملہ کرنے، گیپ تلاش کرنے اور آسانی سے باؤنڈری لگانے کی ان کی صلاحیت ہندوستان کو ابتدائی برتری دلاتی ہے۔ تاہم آکلینڈ کی شکست نے یہ بھی دکھایا کہ ٹی20 کرکٹ میں صرف جارحانہ انداز کافی نہیں، ابتدائی فارم کھونے کے بعد اننگز کو دوبارہ سنبھالنا، اسٹرائیک تبدیل کرنا اور وکٹیں بچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ہندوستان کا ٹاپ آرڈر اب زیادہ متوازن جارحانہ انداز کے ساتھ واپسی کرنا چاہے گا۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ نے اپنی مسابقتی صلاحیت دوبارہ حاصل کرلی ہے۔ اس کی 87 رنز کی جیت محض تسلی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت تھی کہ جب اس کی بلے بازی اور گیندبازی ایک ساتھ مؤثر ہوتی ہیں تو وہ کیا کچھ کرسکتا ہے۔ ابتدائی تین میچوں میں ہندوستان کے جارحانہ کھیل کو روکنے میں مشکلات کے بعد آکلینڈ میں نیوزی لینڈ نے کہیں زیادہ نظم و ضبط اور واضح حکمت عملی کے ساتھ کھیل پیش کیا۔
اس صورتحال میں گلین فلپس اہم کھلاڑی ہوں گے۔ وہ چند ہی گیندوں میں میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھنے والے جارحانہ بلے باز ہیں۔ ان کی موجودگی نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر کو اتنی طاقت دیتی ہے کہ وہ ہندوستان کے مضبوط گیندبازی اٹیک کو بھی چیلنج کرسکے۔ ٹاپ آرڈر کی بہتر کارکردگی کے ساتھ فلپس کا کردار یہ طے کرنے میں اہم ہوگا کہ نیوزی لینڈ سیریز کا اختتام ایک اور یادگار کارکردگی کے ساتھ کرپاتا ہے یا نہیں۔
چوتھے میچ میں نیوزی لینڈ کے گیندبازوں نے جس طرح ہندوستانی بلے بازی کو تہس نہس کیا، اس سے ان کا اعتماد ضرور بڑھا ہوگا۔ اب ان کے سامنے چیلنج یہی دباؤ برقرار رکھنے کا ہے تاکہ ہندوستان پاور پلے میں حاوی نہ ہوسکے۔ ہندوستانی ٹیم میں کئی جارحانہ بلے باز موجود ہیں اور گیندبازی میں معمولی سی بھی غلطی اسے بھاری پڑ سکتی ہے۔
ٹیم کمبی نیشن پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے سامنے یہ سوال ہوگا کہ وہ ان کھلاڑیوں کو موقع دے جنہیں اب تک کم کھیلنے کا موقع ملا ہے یا پھر اپنی جیت کی رفتار برقرار رکھنے پر زور دے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ آکلینڈ کی کارکردگی سے حاصل اعتماد اور جوش کو برقرار رکھنا چاہے گا۔
اب ٹی20 سیریز کا آخری مقابلہ سیڈن پارک میں ہوگا۔ ہندوستان ٹرافی اپنے نام کرچکا ہے، لیکن شاندار اختتام کی خواہش دونوں ٹیموں کے لیے بڑی تحریک ہوگی۔ نیوزی لینڈ کے پاس مشکل سیریز کو باوقار انداز میں ختم کرنے کا موقع ہے، جبکہ ہندوستان یہ ثابت کرنا چاہے گا کہ اس نے سیریز کے آغاز میں اتنی بڑی برتری کیوں حاصل کی تھی۔





