سری نگر؍۳۱؍اکتوبر
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے کشمیر صوبائی صدر شوکت احمد میر نے کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی ناراضگی اور اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی متحد ہے اور اس کی قیادت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شوکت میر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے بعض ارکانِ اسمبلی کی حالیہ ملاقات دراصل دربار موو سے قبل ایک معمول کی نشست تھی، جسے غیر ضروری طور پر پارٹی کے اندر بغاوت سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کے بعد پارٹی کے بعض ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم اپنی رائے پیش کرنا ہر رکن کا جمہوری حق ہے اور پارٹی میں اختلافِ رائے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
میر نے بتایا کہ کئی ارکانِ اسمبلی کو فون کرکے اس ملاقات میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جہاں کابینہ میں حالیہ توسیع سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بھی بات ہوئی۔
این سی صوبائی صدر نے کہا، ’’اس ملاقات کے دوران میڈیا کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا، تاہم جب ارکانِ اسمبلی باہر آئے تو اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس میں۱۷؍ ارکان شامل تھے۔‘‘
پارٹی قیادت کے خلاف۱۷؍ ارکانِ اسمبلی کے متحد ہونے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے شوکت میر نے ان دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس معمول کی ملاقات کو بلاوجہ پارٹی کے اندر بغاوت سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کی یکجہتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
کابینہ میں توسیع کے حوالے سے بعض ارکانِ اسمبلی میں پائی جانے والی ناراضگی سے متعلق سوال پر میر نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے اور اسے پارٹی کے اندر انتشار یا عدم اتحاد کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
میر نے اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے خاندان کی مثال دی اور کہا کہ جب ایک فرد کو دوسرے کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے تو خاندان میں اختلافات پیدا ہونا فطری بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے افراد خاندان کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
این سی صوبائی صدر نے کہا، ’’ایک خاندان میں بھی اس وقت اختلافات پیدا ہوتے ہیں جب ایک فرد کو دوسرے کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی خاندان سے الگ ہو جائے گا۔ اسی طرح مایوسی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ارکانِ اسمبلی پارٹی یا اس کی قیادت کو چھوڑ دیں گے۔‘‘
میر نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور پارٹی کے اندر پھوٹ ڈالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ارکانِ اسمبلی کے درمیان اختلافِ رائے سے نہ تو پارٹی کی تنظیمی یکجہتی متاثر ہوگی اور نہ ہی اس کی قیادت کو کوئی خطرہ لاحق ہوگا۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )









