روح اللہ کااین سی حکومت کو پانچ
سالہ مدت مکمل کرنے دینے پر زور
سری نگر؍۳۱؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے ہفتہ کے روز۳ نومبر کو، اپنے والد کی یومِ شہادت کے موقع پر استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی جدوجہد اصولوں اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر ہے، نہ کہ کسی عہدے یا سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ ان کی مخالفت بنیادی طور پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے اپنے انتخابی وعدوں سے انحراف کے خلاف ہے، خاص طور پر دفعہ۳۷۰ ، آئینی حقوق، تحفظات کی پالیسی، قیدیوں کی رہائی اور دیگر ان مسائل کے حوالے سے جو انتخابی مہم کے دوران اٹھائے گئے تھے۔
نیشنل کانفرنس کے اندر حالیہ پیش رفت کے تناظر میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات کو ان بعض پارٹی ارکانِ اسمبلی کی ناراضگی کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے، جو سیاسی عہدوں کی تقسیم پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
روح اللہ نے الزام لگایا کہ بعض ایسے رہنما، جنہوں نے پہلے انہیں پارٹی کے خلاف عوامی سطح پر بولنے سے منع کیا تھا، اب ذاتی مفادات اور عہدوں کی تقسیم پر اپنی ناراضگی کے باعث خود اپنی قیادت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میری لڑائی دفعہ۳۷۰ ؍اور انتخابی وعدوں پر نیشنل کانفرنس کے یو ٹرن کے خلاف ہے۔ یہ کسی کرسی یا عہدے کے لیے نہیں ہے۔ میرا راستہ الگ ہے۔‘‘
روح اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ارکان کی خرید و فروخت کے ذریعے منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کے مخالف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو اپنی پانچ سالہ مکمل مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی مفادات کے بجائے عوامی اہمیت کے بنیادی مسائل پر اٹھایا جانا چاہیے، جن میں دفعہ۳۷۰ ، تحفظات، قیدیوں کے حقوق اور انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل شامل ہیں۔
این سی لوک سبھا ممبر نے کہا، ’’اگر ارکانِ اسمبلی کو ناراض ہونا ہی تھا تو انہیں اصولوں، دفعہ۳۷۰ ، تحفظات اور قیدیوں کے لیے ناراض ہونا چاہیے تھا۔ وہ ان مسائل کے لیے مشعل بردار جلوس نکال سکتے تھے، لیکن ان کے احتجاج اپنے ذاتی مفادات کے لیے تھے۔‘‘
استعفیٰ دینے کے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ جب کوئی شخص کسی سیاسی جماعت سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اخلاقی اور قانونی طور پر پارٹی کے انتخابی نشان سے بھی دستبردار ہونا مناسب ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے روح اللہ نے دفعہ۳۷۰کی بحالی کے معاملے پر پارٹی قیادت کے موقف میں وضاحت کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے اس معاملے پر پارٹی کے عزم کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے فاروق عبداللہ کے مبینہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں یقین ہے کہ دفعہ۳۷۰ بحال ہوسکتی ہے تو انہیں آگے بڑھ کر اسے بحال کرنا چاہیے۔
روح اللہ نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے اس حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا پارٹی قیادت اب بھی دفعہ۳۷۰ کی بحالی کیلئے جدوجہد کرنے کے عزم پر قائم ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں اور اقتدار میں آنے کے بعد دیے جانے والے بیانات کے درمیان تضاد نے الجھن پیدا کردی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کے وعدوں پر سوال اٹھانے والوں کو بعض اوقات بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ نہ تو پارٹی قیادت نے جاری اختلافات کے حوالے سے ان سے کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی وہ اس طرح کے کسی رابطے کی توقع کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ سیاسی قیادت کو قربانیاں دے کر اور مسلمانوں، کشمیریوں، جموں کے عوام، ڈوگرہ ہندوؤں اور سکھوں کے حقوق اور امنگوں کے حوالے سے واضح موقف اختیار کرکے اپنے عزم کا ثبوت دینا چاہیے۔
پارلیمنٹ میں نمائندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی نے انہیں جموں و کشمیر سے متعلق مسائل اٹھانے اور قومی سطح پر عوامی شکایات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
رو ح اللہ نے مزید کہا کہ اگر عوام چاہتے ہیں کہ وہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے رہیں تو وہ واضح سیاسی موقف کے ساتھ ایسا کریں گے، اور اپنے اٹھائے گئے مسائل پر کسی الجھن یا سمجھوتے کے بغیر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا، ’’خواہ ہمیں فی الحال نقصانات ہی کیوں نہ برداشت کرنے پڑیں، ہم انہیں برداشت کریں گے۔‘‘
روح اللہ کا یہ اعلان نیشنل کانفرنس کے اندر پارٹی کے انتخابی وعدوں، دفعہ۳۷۰ کے حوالے سے اس کے طرزِ عمل اور دیگر سیاسی و انتظامی امور پر اختلافات کی اطلاعات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
۳ نومبر کو ان کا مجوزہ استعفیٰ جموں و کشمیر سے متعلق اہم مسائل پر نیشنل کانفرنس کے وعدوں اور اس کے موقف کے گرد جاری سیاسی بحث میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہونے کی توقع ہے۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )









