سرینگر؍۳۰؍اکتوبر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر واٹر ریسورسز (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ۲۰۱۰کے تحت آبی استعمال کے محصول (واٹر یوزیج چارجز) عائد کرنے کے اقدام کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔
جسٹس سنجے دھر اور جسٹس راج نیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متنازعہ قانون کی وہ شقیں، جن کے تحت درخواست گزاروں پر پانی کے استعمال کا محصول عائد کیا گیا، آئین کے منافی ہیں اور اس حد تک انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کے خلاف جاری کردہ مطالباتی نوٹس بھی منسوخ کر دیے اور حکومت کو ہدایت دی کہ پانی کے استعمال کے محصول یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کوئی ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔
ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ جموں و کشمیر واٹر ریسورسز (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ۲۰۱۰ کی وہ شقیں، جو پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کا محصول عائد کرنے کی اجازت دیتی ہیں، دراصل بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہیں۔ اس لیے سابقہ ریاستی مقننہ کو ایسا ٹیکس عائد کرنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں تھا۔
جموں و کشمیر حکومت نے۲۰۱۰میں یہ قانون منظور کیا تھا، جس کا مقصد نجی اور سرکاری اداروں سمیت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے پانی کے استعمال کے عوض محصول وصول کرکے آبی وسائل سے آمدنی حاصل کرنا تھا۔ اُس وقت کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس قانون کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، بشمول نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی)، سے سالانہ تقریباً۸۵۰ کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کرنے کا ہدف تھا۔
تاہم، جموں و کشمیر میں پن بجلی کے آزادانہ منصوبوں پر کام کرنے والی۱۱ کمپنیوں نے۲۰۱۰ کے قانون کی مختلف شقوں کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ پن بجلی منصوبوں میں پانی کا استعمال غیر صرفی نوعیت کا ہوتا ہے، یعنی پانی استعمال کے بعد دوبارہ قدرتی بہاؤ میں شامل ہو جاتا ہے، اس لیے اس پر آبی استعمال کا محصول عائد نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی نے۲؍اپریل۲۰۱۹ کو بجلی کی پیداوار کے لیے آبی استعمال کا محصول مقرر کرتے وقت پن بجلی گھروں میں ٹربائن چلانے کے لیے پانی کے استعمال کی مقدار کے بجائے اس بلندی کو بنیاد بنایا تھا جہاں سے پانی ٹربائن تک پہنچایا جاتا ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت میں دلیل دی کہ آئین کے تحت بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ریاستی مقننہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ان کے مطابق، مرکزی حکومت کے مؤقف سے بھی واضح ہے کہ ریاستی حکومت پانی کے استعمال کے محصول وغیرہ کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد نہیں کر سکتی۔
ڈویژن بنچ نے اسی بنیاد پر جموں و کشمیر حکومت کو پانی کے استعمال کے محصول یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے سے روک دیا۔
درخواست گزاروں نے جموں و کشمیر حکومت کو رائلٹی کی صورت میں فراہم کی جانے والی۱۲ فیصد مفت بجلی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ واضح طور پر درج کردہ واجبات کے علاوہ کوئی اضافی محصول، ٹیکس یا سیس عائد نہیں کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کی بنیاد پر کمپنیوں نے یہ جائز توقع قائم کی تھی کہ منصوبوں کی۴۰ سالہ مدت کے دوران ان پر پانی کے استعمال کے نام پر کوئی اضافی محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب جموں و کشمیر حکومت نے قانون کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت ریاستی حکومت کو بجلی کی پیداوار سمیت مختلف مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے پر محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
حکومت نے کہا کہ متنازعہ قانون قومی آبی پالیسی کے مطابق ہے اور اس کا مقصد جموں و کشمیر کے عوام کے فائدے کے لیے آبی وسائل کا بہترین استعمال اور تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست دوم کے اندراج۱۷ میں پانی اور آبی توانائی کے منصوبوں کا واضح ذکر ہے، اس لیے ریاست کو پانی کے ضابطے اور مختلف مقاصد کے لیے آبی محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
حکومت نے یہ دلیل بھی دی کہ پانی زمین سے حاصل ہوتا ہے یا اس سے منسلک ہے، اس لیے اسے زمین کی تعریف میں شامل کیا جا سکتا ہے اور فہرست دوم کے اندراج۴۹ کے تحت آبی استعمال کا محصول عائد کرنا جائز ہے۔ مزید کہا گیا کہ پانی معدنیات کی تعریف میں بھی آتا ہے، لہٰذا آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست دوم کے اندراج۵۰کے تحت بھی حکومت کو محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
انتظامیہ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون مقننہ نے منظور کیا تھا، جبکہ درخواست گزاروں کو اگر کوئی یقین دہانی دی گئی تھی تو وہ انتظامیہ کی جانب سے تھی۔ اس لیے وہ کسی انتظامی یقین دہانی کی بنیاد پر قانون سازی کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ حکومت نے یہ بھی دلیل دی کہ اگر آبی استعمال کے محصول کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس تصور کیا جائے تب بھی جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ۲۰۱۹ کی منظوری کے وقت پارلیمنٹ نے اس قانون کو اختیار کیا تھا، لہٰذا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اسے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہے، جسے بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
دریں اثنا، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما وحید الرحمٰن پرہ نے جمعہ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کو ایک ہزار کروڑ روپے کے ممکنہ مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا۔
عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پرہ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے۲۰۱۰سے جاری مطالباتی نوٹس منسوخ کر دیے ہیں، جس سے اس معاملے کو حکومت کی جانب سے نمٹانے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کا محصول عائد کرنا دراصل بجلی کی پیداوار پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے، جبکہ یہ سابقہ جموں و کشمیر مقننہ کے آئینی دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ عدالت نے۲۰۱۰کے قانون کی متعلقہ شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے ان کے تحت جاری کردہ مطالباتی نوٹس بھی منسوخ کر دیے۔
پلوامہ کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے تقریباً دو سال سے ایڈووکیٹ جنرل کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ محکمہ قانون وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے اور اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی کہ آیا انتظامیہ جموں و کشمیر کے مفادات کے دفاع کے لیے قانونی طور پر پوری طرح تیار تھی۔
پرہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں سوال اٹھایا، ’’اگر ہم اپنے مفادات کا دفاع اسی طرح کرتے ہیں تو ریاستی درجے کی بحالی کے مقدمے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









