سرینگر؍۳۰؍اکتوبر
وزیر صحت، طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے عام شہریوں کو قافلوں کی آمد و رفت کے دوران طویل وقت تک انتظار کرنے پر مجبور کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر ہمارے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں اس قدر مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں؟
سکینہ ایتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سرینگر، اننت ناگ، کولگام اور قاضی گنڈ قومی شاہراہ پر بار بار سفر کے دوران یہ دیکھ کر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ ایمبولینسیں راستے میں پھنسی رہتی ہیں، طلبہ اپنی کلاسوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور عام شہری قافلوں کی آمد و رفت کے انتظار میں۱۵ سے۳۰ منٹ، بعض اوقات کئی کئی گھنٹے گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
وزیر موصوفہ نے کہا کہ سکیورٹی انتہائی اہم ہے، تاہم عوام کی فلاح و بہبود بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔
ایتو نے کہا کہ سکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانی کا عکس صرف پالیسیوں میں ہی نہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی وقار، حساسیت اور حقیقی راحت کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔
وزیر صحت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور دیگر متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ ٹریفک کے انتظام کے لیے عملی اقدامات تلاش کریں، تاکہ ضروری سکیورٹی ضوابط برقرار رکھنے کے ساتھ ایمبولینسوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت یقینی بنائی جا سکے اور عام لوگوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )









