واشنگٹن/کراکس، 27 اکتوبر (یو این آئی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا کی اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے سیاسی تبدیلی مسلط کرنے کی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ان کا یہ بیان جلاوطن اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کی کراکس واپسی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں جمہوری انتخابات کی جانب اقتدار کی منتقلی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
روبیو نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماچاڈو کا براہِ راست نام لیے بغیر کہا،آپ سڑکوں پر احتجاج کرکے جمہوریت حاصل نہیں کر سکتے۔
ماچاڈو کی وطن واپسی، 2027 میں انتخابات کرانے کے مطالبے اور وینزویلا کی موجودہ قیادت کے ساتھ امریکہ کے ایک بڑے تیل معاہدے پر ان کی تنقید نے ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اقتدار کی منتقلی کے منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ذرائع نے، جو روبیو کے خیالات سے واقف ہیں، امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا، ”وینزویلا اس انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اگر ہماری حاصل کردہ پیش رفت کو پلٹ دیا جاتا ہے اور ماچاڈو اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں تو کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ماچاڈو کے ترجمان نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ماچاڈو اور امریکی حکام دونوں اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وینزویلا میں انتخابات ضروری ہیں، تاہم واشنگٹن نے 2027 میں انتخابات کرانے کی ان کی مجوزہ مدت کی حمایت کا عہد نہیں کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس سے پہلے کئی ادارہ جاتی اور اقتصادی اصلاحات کی جائیں۔
ان اصلاحات میں وینزویلا کی سپریم کورٹ کی تنظیمِ نو شامل ہے، جس پر سابق صدر نکولس مادورو کے اتحادیوں کا غلبہ ہے۔ اس کے علاوہ قومی انتخابی کونسل میں اصلاحات بھی مطلوب ہیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ اس کونسل نے مادورو کو گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی تھی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کو امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک نئی سپریم کورٹ کا انتخاب ہو جائے گا اور اگلے سال کے اوائل تک اصلاح شدہ انتخابی کونسل قائم کر دی جائے گی۔
مادورو کو 3 جنوری کو امریکی افواج نے اغوا کرکے نیویارک منتقل کر دیا تھا، جہاں انہیں منشیات کی اسمگلنگ کے مبینہ الزامات کا سامنا ہے۔ اس وقت وینزویلا کی حکومت سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز چلا رہی ہیں۔
امریکی انتظامیہ وینزویلا کے قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لیے بھی پیش رفت چاہتی ہے، جس کا تخمینہ 300 ارب ڈالر ہے۔ یہ رقم ملک کی مجموعی قومی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم، روبیو نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی۔
محکمۂ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سکیورٹی اداروں میں اصلاحات کو بھی ممکنہ رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی تباہی یا سکیورٹی فورسز کی نئی حکومت سے وفاداری نہ ہونے کی صورت میں منتخب حکومت کمزور ہو سکتی ہے۔
روبیو کی بریفنگ کے تحریری متن کے مطابق، عہدیدار نے کہا، ”اگر آپ چاہتے ہیں کہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کامیاب ہو تو آپ نہیں چاہیں گے کہ اسے ایسی معاشی تباہی ورثے میں ملے جو اس کی حکومت گرا دے۔”
عہدیدار نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ سکیورٹی فورسز نئی حکومت کے احکامات ماننے سے انکار کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہوگا۔





