پیانگ یانگ، 27 اکتوبر (یو این آئی) امریکی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں اس کی مدد کے لیے تعینات شمالی کوریائی فوجیوں کو میدانِ جنگ کا قیمتی عملی تجربہ حاصل ہو رہا ہے۔ ڈرونز، روبوٹکس اور دیگر ٹیکنالوجی جدید جنگ کے طریقوں کو مسلسل تبدیل کر رہی ہے اور اس جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کے ہند-بحرالکاہل خطے کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی آٹھویں فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جوزف ہلبرٹ نے خبردار کیا ہے کہ ڈرونز اور روبوٹکس سے تیزی سے متاثر ہونے والے میدانِ جنگ سے حاصل ہونے والے اسباق خطے کی سلامتی کے لیے اہم نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایکسئیوس کے مطابق، ہلبرٹ نے اس ماہ واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے طریقے کس طرح بدل رہے ہیں، اور شمالی کوریا کے لوگ بھی یقیناً اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، میں روس اور شمالی کوریا (ڈی پی آر کے) کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا، لیکن ان کے درمیان تعاون واضح ہے۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق، شمالی کوریا نے اکتوبر 2024 سے اب تک روس میں 16 ہزار سے زیادہ اہلکار بھیجے ہیں، جبکہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ مزید دسیوں ہزار فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی آٹھویں فوج کا ہیڈکوارٹر جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے جنوب میں کیمپ ہمفریز میں واقع ہے۔
شمالی کوریا نے جون 2024 میں پیانگ یانگ اور ماسکو کے درمیان شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے بعد روس میں فوجی تعینات کرنا شروع کیے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کی مکمل شرائط واضح نہیں ہیں، تاہم اس انتظام سے شمالی کوریا کو جنگی تجربہ حاصل کرنے، اسلحے کی برآمدات کے ذریعے آمدنی بڑھانے، اپنے فوجی سازوسامان کو آزمانے اور ممکنہ طور پر روس کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔
یہ تعیناتی شمالی کوریا کے فوجیوں اور کمانڈروں کے لیے طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ سے سیکھنے کا ایک نادر موقع ہے، کیونکہ 1953 میں کوریائی جنگ کے خاتمے کے بعد سے شمالی کوریا کی فوج کسی بڑی جنگ میں شریک نہیں ہوئی ہے۔ شمالی کوریائی فوجیوں نے روس کے علاقے کرسک میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے، جہاں حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل کی فوجی منصوبہ بندی میں کام آ سکتا ہے۔
اس تعاون کے فوائد صرف میدانِ جنگ کی تربیت تک محدود نہیں ہیں۔ شمالی کوریا نے روس کو بڑی مقدار میں گولہ بارود، توپ خانے کے نظام، راکٹ لانچر اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اندازے کے مطابق، پیانگ یانگ نے 2022 سے اب تک روس کو ڈیڑھ کروڑ توپ خانے کے گولے برآمد کیے ہیں۔
جنوبی کوریا کے دفاعی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے کوریا ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے گولہ بارود اور فوجی سازوسامان سے بھرے تقریباً 33 ہزار بحری کنٹینر روس بھیجے ہیں۔






