برازیل کے دائیں بازو کے رہنما فلیویو بولسونارو کو صدارتی انتخابات میں موجودہ بائیں بازو کے صدر لوئز ایناسیو لولا دا سلوا کے ہاتھوں شکست کے بعد ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے اور انہیں اپنے تمام پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ حکم سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موریس نے جاری کیا، جو فلیویو کے والد اور سابق صدر جائر بولسونارو کے خلاف مبینہ بغاوت کی سازش کے مقدمے کی سماعت بھی کر چکے ہیں۔
فلیویو نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس فیصلے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والد سے ملاقات کے بعد واپس آئے تھے، جنہیں برازیلیا میں گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے، تو وفاقی پولیس نے انہیں عدالتی حکم سے آگاہ کیا۔
فلیویو کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ ان کے بھائی ایڈورڈو بولسونارو کے جمعہ کو ایک امریکی پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں ایڈورڈو نے کہا تھا کہ اگر فلیویو انتخابات ہار جائیں تو انہیں برازیل چھوڑ دینا چاہیے۔
فلیویو نے ملک چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا، میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔
عدالتی حکم کا تعلق اس مجرمانہ تحقیقات سے ہے جس میں فلیویو کے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ایک منصوبے میں ملوث ہونے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ حکم کے تحت انہیں اپنے دوست اور وکیل ولر توماز سے رابطہ کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ توماز کا تعلق ان بیٹنگ کمپنیوں سے بتایا جاتا ہے جنہیں پولیس کے شبہے کے مطابق تقریباً 68 کروڑ پاؤنڈ کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔
عدالت نے فلیویو کے تمام پاسپورٹ منسوخ کر دیے ہیں، جن میں رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے حاصل سفارتی پاسپورٹ بھی شامل ہے۔ انہیں 24 گھنٹے کے اندر تمام پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
فلیویو کی جماعت نے پیر کی رات جاری بیان میں انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے کہا، ”ہم انتخابی عدالت کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہمارا ماننا ہے کہ اٹھائے گئے سوالات کو متوازن اور جمہوری سیاسی بحث کے ذریعے مناسب طور پر واضح کیا جانا چاہیے۔”
تاہم، فلیویو نے اپنے والد کی طرح، جنہوں نے چار سال قبل گزشتہ صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد ایسا ہی کیا تھا، لولا دا سلوا کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے۔
اخبار ‘فولہا ڈی ساؤ پاؤلو’ کے مطابق، ان کے قریبی ساتھیوں اور وکلا نے انہیں انتخابات منسوخ کرانے کی کوشش ترک کرنے پر آمادہ کیا۔ فلیویو نے اتوار کی رات اس سلسلے میں اعلان کیا تھا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع سے انتخابی عمل متاثر ہوا۔ یہ توسیع ان ووٹروں کو سہولت دینے کے لیے کی گئی تھی جنہیں لازمی مفت پبلک ٹرانسپورٹ تک رسائی میں دشواری کا سامنا تھا۔ تاہم، فلیویو کی اپنی انتخابی مہم نے بھی ووٹنگ کے وقت میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔
اخبار کے مطابق، مشیروں نے انہیں بتایا کہ انتخابات منسوخ کرانے کے لیے ان کی قانونی دلیل کمزور ہے۔ فلیویو نے عوامی طور پر یہ مطالبہ واپس نہیں لیا ہے۔ اپنی ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک الگ مقدمہ دائر کریں گے، جس میں لولا دا سلوا کے صدارتی انتخابی اتحاد کو مبینہ طور پر معاشی طاقت کے ناجائز استعمال کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کی درخواست کی جائے گی۔
سینیٹر فلیویو کو ایک اور تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔ یہ معاملہ تقریباً دو کروڑ پاؤنڈ کی اس رقم سے متعلق ہے جس کے بارے میں مبینہ طور پر ان کی ایک ریکارڈنگ سامنے آئی تھی۔ اس میں وہ بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک بدنام بینکر سے اپنے والد کی سوانحی فلم کے لیے رقم فراہم کرنے کو کہتے سنے گئے تھے۔
فلیویو کی سینیٹ کی مدت اگلے سال کے اوائل میں ختم ہونے والی ہے۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد انہیں عوامی عہدے داروں کو حاصل خصوصی قانونی تحفظات حاصل نہیں رہیں گے۔ وہ گزشتہ 24 برس سے سرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں۔






