ستمبر کے اواخر میں نیویارک میں بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں اور خارجہ پالیسی کے ماہرین کے ایک مخلوط اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔
جے شنکر نے جواب دیا، میرا خیال ہے کہ اگر میں اس تعلق کو مجموعی طور پر دیکھوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے امریکہ کے ساتھ تعلقات زیادہ مشکل ہو گئے ہیں۔
تاہم، حریف ہندوستان کے لیے شاید یہ صورت حال کچھ ناگوار ہو، لیکن پاکستان اس معاملے میں ایک استثنا دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ان کی پالیسیوں نے محصولات کے نفاذ اور ایران کے ساتھ جنگ کے ذریعے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط اعتماد کو نقصان پہنچایا، بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام چلانے والے اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور یورپ سے مشرق وسطیٰ اور مشرقی ایشیا تک امریکی سلامتی کے حصار پر بھروسا کرنے والے اتحادیوں کو متبادل شراکت داریاں تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان ممالک کے رہنما بھی، جو طویل عرصے سے امریکہ کے مضبوط حامی رہے ہیں، ٹرمپ کی تنقید اور حملوں کا نشانہ بنے ہیں، جن میں ذاتی نوعیت کی تنقید بھی شامل ہے۔
اس ہنگامہ خیز صورت حال کے باوجود پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے شدید کشیدہ تعلقات کو ایسی شراکت داری میں بدلنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کا ٹرمپ بار بار ذکر کرتے ہیں۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے جب اسلام آباد کی حکومت کو ملک کے اندر سیاسی اپوزیشن کو کچلنے اور عملاً فوجی حکمرانی کو مستحکم کرنے کے الزامات پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔
امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول داؤ پر ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کے خواہاں ہوں گے، کیونکہ موجودہ اندازوں کے مطابق ریپبلکن دونوں ایوانوں میں اہم نشستیں کھو سکتے ہیں۔
ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا، ”پاکستان کے وزیر اعظم، جو ایک شاندار انسان ہیں، نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ 30 ملین جانیں اور شاید اس سے بھی کہیں زیادہ جانیں بچانے کے ذمہ دار ہیں۔” ٹرمپ کا اشارہ اس جنگ کی جانب تھا، جس نے بظاہر اسلام آباد کے ساتھ ان کی قربت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کئی دہائیوں تک مضبوط تعلقات برقرار رہنے کے بعد حالیہ برسوں میں امریکہ اور پاکستان کے رشتے انتہائی کمزور ہو گئے تھے۔ یکے بعد دیگرے آنے والے امریکی صدور نے حریف ہندوستان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے، جبکہ واشنگٹن میں پاکستان کے کردار کو دوغلا سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس پر امریکہ کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے افغان طالبان کی مدد کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے تھے۔
اپنی پہلی مدتِ صدارت میں ٹرمپ اور ان کے بعد جو بائیڈن، دونوں نے پاکستان کے بارے میں سخت بیانات دیے تھے۔لیکن دوسری مدتِ صدارت کے محض دو ماہ بعد، مارچ 2025 میں، ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کابل ہوائی اڈے پر 2021 میں ہونے والے ایبی گیٹ بم دھماکے کے ایک مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔





