یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بحیرۂ اسود میں بلغاریہ کے ساحل کے قریب تجارتی جہازوں پر ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
وان ڈیر لیین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، بحیرۂ اسود یوکرین میں روسی جنگ کے پھیلاؤ کا ایک اور محاذ بن گیا ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بلغاریہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان حملوں سے جہازوں کے عملے کی جان اور علاقائی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
بلغاریہ کے وزیر اعظم رومین رادیف نے بتایا کہ حکام کو منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے (پیر کو 22:30 جی ایم ٹی) مالٹا کے پرچم تلے سفر کرنے والے جہاز چیلسی 3 سے ہنگامی پیغام موصول ہوا۔ جہاز ساحلی قصبے بیالا سے 18 ناٹیکل میل مشرق میں موجود تھا۔
رادیف کے مطابق، جہاز کے عملے نے بتایا کہ یوکرین کی ملکیت اور اودیسا میں رجسٹرڈ اس جہاز کے عرشے اور ایک جانب تین فضائی ڈرونوں نے حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عملے کے تمام 15 ارکان، جن میں سات یوکرینی اور آٹھ آذربائیجانی شہری شامل تھے، بحفاظت ورنا بندرگاہ منتقل کر دیے گئے۔ ان میں سے پانچ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
رادیف کے مطابق، بلغاریہ نے نیٹو اور یورپی یونین میں اپنے نمائندوں کو صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے۔ ملک ڈرون حملوں کی اصل وجہ اور ان کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے ساتھ سمندری اور فضائی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ہمارے پاس کسی بھی فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے واضح اور حتمی شواہد موجود نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے روسی سفیر کو طلب کیا جائے گا۔
بلغاریہ کے وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ ایک دوسرے جہاز کو ساحلی علاقے کراپیٹس سے 17 ناٹیکل میل مشرق میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ ڈوب گیا۔ اس جہاز کے عملے کا ایک رکن بچا لیا گیا۔
اس سے قبل 6 اکتوبر کو بحیرۂ اسود میں ترکیہ کی ملکیت کے مال بردار جہاز ایم وی رویاد محمدوف پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ان واقعات نے بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں کے عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یوکرین میں روس کی جاری جنگ کے باعث سمندری آمدورفت اور علاقائی بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔







