غزہ، 12 اکتوبر (یو این آئی) شمالی اسرائیل میں لبنان کی سرحد کے قریب غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود کے دھماکے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوگئے۔
اسرائیل کی میگن ڈیوڈ ایڈوم طبی امدادی تنظیم کے مطابق، پیر کی صبح ہونے والے دھماکے کے بعد طبی عملہ آٹھ افراد کا علاج کر رہا تھا، جن کی حالت سنگین یا درمیانی درجے کی بتائی گئی، جبکہ کئی دیگر افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔
پولیس کے مطابق، دھماکہ کیبوتز منارا اور کیبوتز یفتاح کے درمیان واقع علاقے نیوت مردخائی کے قریب ہوا۔ کریات شمونا پولیس اسٹیشن کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر آمد و رفت محدود کر دی گئی ہے۔ بم ناکارہ بنانے والے ماہرین دھماکے کی وجوہات اور اس کے ماخذ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دھماکہ غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 افراد مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے الجزیرہ کی نامہ نگار نور عودہ نے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہاں کئی اسرائیلی شہری پکنک منانے یا سیر و تفریح کے لیے موجود تھے۔ ان کے مطابق، بعض زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
عودہ نے کہا کہ ابھی تک واقعے اور دھماکے کے اصل سبب کے بارے میں بہت کم تفصیلات سامنے آئی ہیں، تاہم یہ واقعہ یاد دہانی ہے کہ شمالی اسرائیل، بالخصوص بالائی الجلیل اور لبنان کی سرحد سے متصل علاقے میں اب بھی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ گزشتہ تین برس کے دوران اس خطے میں ہزاروں گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کے بعد اسرائیلی سیاسی قیادت بھی متحرک ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئے، جبکہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اپنا طے شدہ سیاسی پروگرام منسوخ کردیا۔







