پیرس، 13 اکتوبر (یو این آئی) فرانس کی فضائی کمپنی ایئر فرانس نے تصدیق کی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بعض ممالک کی شہریت رکھنے والے پائلٹوں اور کیبن عملے کو اسرائیل آنے اور اس کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں میں خدمات انجام دینے سے روکنے کے نئے ضابطوں پر عمل کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے کمپنی کو امتیازی سلوک کے الزامات اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا اور فرانس کے تحقیقاتی ادارے ‘میڈیاپارٹ کی رپورٹوں کے مطابق، اسرائیل نے 31 مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والی پروازوں میں عملے کے طور پر خدمات انجام دینے سے روک دیا ہے۔ ان ممالک میں الجزائر، تیونس، ایران، عمان، سعودی عرب، پاکستان اور نائجر شامل ہیں۔
ایئر فرانس نے الجزیرہ کو ایک بیان میں کہا،دیگر تمام فضائی کمپنیوں کی طرح ایئر فرانس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ جن ممالک میں پروازیں چلاتی ہے، وہاں کے حکام کے مقرر کردہ داخلے کے ضابطوں پر اپنے مسافروں اور ملازمین، دونوں کے لیے عمل کرے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے این 12 کے مطابق، وزارتِ ٹرانسپورٹ و روڈ سیفٹی نے یکم اکتوبر کو غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو مطلع کیا تھا کہ اسرائیل کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے والے پائلٹوں اور کیبن عملے کے پاس ایسے ممالک کی شہریت یا دوہری شہریت نہیں ہونی چاہیے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
یہ ہدایت دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کو 30 ستمبر کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے کی کوشش کے ایک روز بعد جاری کی گئی تھی۔ اماراتی اور اسرائیلی حکام کے مطابق، عمانی نائب پائلٹ پر الزام ہے کہ اس نے طیارے کے ہندوستانی پائلٹ پر حملہ کیا اور طیارے کو اسرائیل کے بین گوریون ہوائی اڈے سے ٹکرانے کی کوشش کی۔ بھارتی پائلٹ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ایئر فرانس نے الجزیرہ کو بتایا کہ تل ابیب جانے والی پروازوں کے لیے اسرائیلی حکام کے نئے ضابطوں سے متعلق عملے کو مطلع کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی ہدایت سے ان درجنوں فضائی کمپنیوں کے کام متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو اسرائیل کے لیے، وہاں سے یا اس کی فضائی حدود کے اوپر سے پروازیں چلاتی ہیں۔
الجزیرہ نے 15 بڑی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں سے رابطہ کرکے دریافت کیا کہ آیا انہیں یہ ہدایت موصول ہوئی ہے اور کیا انہوں نے اس کے مطابق عملے کی تعیناتی میں تبدیلی کی ہے۔
چیک جمہوریہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی اسمارٹ ونگز نے ہدایت موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ اگرچہ فی الحال اس کی پروازیں متاثر نہیں ہوئی ہیں، تاہم وہ ضابطوں پر عمل کرے گی۔
کمپنی کی ترجمان ولادیمیرا ڈوفکووا نے کہا کہ ستمبر 2026 میں اسرائیلی حکام کی جانب سے ہدایت موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ ضابطوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ ان کے مطابق، فی الحال اس سے کمپنی کی پروازوں، عملے کے انتظام یا اسرائیل آنے اور جانے والی پروازوں پر عملے کی تعیناتی متاثر نہیں ہوئی ہے۔







