نئی دہلی، 2 اکتوبر (یو این آئی) بہار کے پورنیہ ضلع سے یورپی ملک یونان کے لیے ایک ٹن پھول مکھانہ کی کھیپ زرعی اورپراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے- ایپیڈا) کے تعاون سے روانہ کی گئی ہے۔ یہ پہل مکھانے کی بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی بڑھانے اور برآمدات کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
یہاں جمعہ کے روز جاری ایک سرکاری ریلیز میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ کھیپ گجرات کے منڈرا پورٹ سے سمندری راستے سے یونان کے پیرایئس پورٹ تک پہنچے گی۔ اس برآمد سے کسانوں کو گھریلو مارکیٹ کے مقابلے میں کافی بہتر قیمت ملی ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ دنیا کی مارکیٹیں مکھانہ کسانوں کو بہتر قیمت دلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہندستان عالمی سطح پر مکھانہ کی پیداوار میں سرِ فہرست ہے، جس میں اکیلے بہار کا حصہ 80 سے 85 فیصد ہے۔ ریاست کے 10 اضلاع میں 35,000 ہیکٹر سے زائد رقبے پر مکھانے کی کاشت کی جاتی ہے۔ اس شعبے کو بہار ایگریکلچرل یونیورسٹی، سبور اور نیشنل مکھانہ ریسرچ سینٹر، دربھنگہ سے تکنیکی مدد حاصل ہے۔
کھیپ کو ہری جھنڈی دکھانے کے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بہار حکومت کے وزیرِ زراعت وجے کمار سنہا نے کہا کہ یہ برآمد بہار کی مکھانہ صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ ہندستان نے مالیاتی سال 2025-26 کے دوران 20 سے زائد ممالک کو 22 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 180 کروڑ روپے) مالیت کا 7,000 ٹن سے زیادہ مکھانہ اور اس کی پراسیس شدہ مصنوعات برآمد کی ہیں۔
وزیرِ زراعت نے بتایا کہ بہار حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایک وقف ‘زرعی برآمداتی پالیسی’ پر کام کر رہی ہے۔ اس کے تحت مکھانہ ایکسپورٹ ویلیو چین کو مضبوط کرنے کے مقصد سے جدید پیک ہاؤسز کی تعمیر کی گئی ہے۔
پروگرام کے دوران ایپیڈا کے چیئرمین ابھشیک دیو، بہار حکومت کے ڈائریکٹر باغبانی ابھشیک کمار سمیت کئی سینئر اہلکار موجود تھے۔ ایپیڈا کی کوششوں سے اب یورپی مارکیٹوں میں بھی ہندستانی مکھانے کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے بہار کے کسانوں اور پروڈیوسر گروپس کو عالمی مارکیٹ سے براہِ راست جڑنے کا موقع مل رہا ہے۔






