نئی دہلی، 2 اکتوبر (یو این آئی) ایک آزاد ادارے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے مقابلے میں 2026 کے پہلے نو مہینوں میں دہلی کی ہوا مزید زہریلی ہو گئی ہے۔
آزاد ادارے ہوا کا حساب نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی ) کے روزانہ شام چار بجے کے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) بلیٹن کا تجزیہ کر کے یہ انکشاف کیا ہے۔ اس سے قبل ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن (سی اے کیو ایم) نے اپنی رپورٹ میں دہلی کی فضائی آلودگی میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کئی اہم اعداد و شمار کو شامل نہیں کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، جنوری سے ستمبر 2026 کے درمیان دہلی کا اوسط اے کیو آئی بڑھ کر 167.6 پر پہنچ گیا، جو 2025 کی اسی مدت میں 164.3 تھا۔ اسی طرح جنوری-اگست کا اوسط بھی گزشتہ سال کے 171.7 سے بڑھ کر اس بار 175.7 درج ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری، مارچ، جولائی اور اگست 2026 میں ہوا کی کوالٹی 2025 کے مقابلے میں زیادہ بگڑی۔ جولائی 2026 میں اوسط اے کیو آئی 117.8 رہا (جو جولائی 2025 میں 78.4 تھا)، جس سے یہ 2019 کے بعد سے دہلی کا سب سے خراب جولائی ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 39 مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے اعداد و شمار کے مطابق، 2026 میں تمام اسٹیشنوں کو ملا کر کل 796 گھنٹوں تک اے کیو آئی اپنی اعلیٰ ترین سطح 500 پر درج کی گئی، جبکہ 2025 میں یہ اعداد وشمار صرف 256 گھنٹے تھا۔ اس دوران پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 439 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر رہی، جو ڈبلیو ایچ او کے محفوظ معیار سے تقریباً 29 گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ میں سی اے کیو ایم کے "پی ایم 2.5 کی سب سے نچلی سطح” کے دعوے پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سی اے کیو ایم نے 2025 اور 2026 دونوں سالوں کے لیے پی ایم 2.5 کی سطح ایک جیسی (69 مائیکرو گرام/مکعب میٹر) دکھائی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے موازنے کے لیے 2018 کے بجائے 2022 سے اعداد و شمار منتخب کر کے پیش کیے ہیں۔
اس دوران رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس لیڈر اجے ماکن نے سی اے کیو ایم کے غیر سرکاری ارکان اروند وابلے اور ارونابھ گھوش کو خط لکھا ہے۔ مسٹر ماکن نے کمیشن سے جنوری-ستمبر کا غائب اوسط اور ماہانہ اعداد و شمار فوری طور پر عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے، نیز انہوں نے 2018 سے طویل مدتی موازنہ بحال کرنے اور پی ایم 2.5 کے دعووں میں اصلاح کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔






