سرینگر؍۲۳ستمبر
سپریم کورٹ نے منگل کے روز مرکز کو بتایا کہ ’’ضمیر کی بنیاد پر اختلاف رکھنے والے شخص‘‘ کو وندے ماترم گانے سے انکار کرنے پر سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ عدالت نے مرکز سے کہا کہ وہ۱۹۸۶کے اس فیصلے کو بھی مدنظر رکھے جس میں ان بچوں کو تحفظ دیا گیا تھا جنہوں نے اپنے ضمیر کی بنیاد پر قومی ترانہ گانے سے انکار کیا تھا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ کرناٹک موسیقی کے گلوکار ٹی ایم کرشنا کی درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں وندے ماترم کے تمام چھ بند گانے کو لازمی قرار دینے والے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آخری چار بند ملک کے سیکولر کردار کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
مرکز سے درخواست پر جواب طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ وہ توقع کرے گی کہ سپریم کورٹ کے۱۹۸۶ کے فیصلے، ’’بِجو ایمانوئل بنام ریاست کیرالہ‘‘ میں وضع کیا گیا اصول ترمیم شدہ قانون پر بھی نافذ ہوگا۔
اس مقدمے میں عدالت نے ان اسکولی بچوں کو تحفظ فراہم کیا تھا جنہوں نے ضمیر کی بنیاد پر قومی ترانہ احترام کے ساتھ گانے سے انکار کیا تھا۔
جسٹس باغچی نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے زبانی طور پر کہا، ’’ہم نوٹس جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن ہم توقع کریں گے کہ اس عدالت کی جانب سے بَجو ایمانوئل مقدمے میں جو قانون وضع کیا گیا ہے، وہ ترمیم شدہ قانون پر بھی نافذ ہوگا۔‘‘
جسٹس باغچی نے کہا، ’’قومی گیت کیا ہے، اس پر کوئی تنازع نہیں ہے۔ بَجو ایمانوئل مقدمے میں قانون کی جو تشریح کی گئی تھی، اسے ابھی تک چیلنج نہیں کیا گیا۔ یہ جمہوری ریاست کا اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ قومی گیت کیا ہوگا، اس کے دو بند ہوں گے یا چار بند۔ لیکن جو شخص یہ محسوس کرتا ہو کہ اس کے آئین کی دفعات۲۵؍ اور۲۶کے تحت حاصل حقوق، یعنی مذہبی آزادی کے بنیادی حق، متاثر ہو رہے ہیں یا جو ضمیر کی بنیاد پر اختلاف رکھنے والا ہو، اسے کسی بھی تعزیری کارروائی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
کرشنا کی درخواست میں۱۹۷۱کے ’’قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام قانون‘‘ کی دفعہ۳ کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں۲۰۲۶ میں ترمیم کی گئی، اس کے علاوہ وزارت داخلہ کے۲۸جنوری اور۹ جولائی۲۰۲۶ کے احکامات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
ترمیم شدہ دفعہ۳ کے تحت ایسے شخص کو تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے جو دانستہ طور پر قومی ترانے یا قومی گیت گانے سے روکے یا ایسی مجلس میں خلل پیدا کرے جہاں یہ گیت یا ترانہ گایا جا رہا ہو۔
جسٹس باغچی نے کہا کہ یہ عدالت اس بات کا ازخود جائزہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ وندے ماترم کے ساتھ قومی جذبات یا امنگیں کیا وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنا ریاست کا اختیار ہے۔
بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ عدالت اس بات کا تعین کرنے نہیں جا رہی کہ قومی گیت کیا ہونا چاہیے۔ تاہم وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ ’’ضمیر کی بنیاد پر اختلاف رکھنے والے شخص‘‘ کے حقوق، بالخصوص ایسے شخص کے جو مذہبی وجوہات کی بنا پر اسے گانے سے انکار کرے، قانون کے تحت محفوظ ہیں یا نہیں۔
جسٹس باغچی نے کہا کہ عدالت اس بات کا جائزہ نہیں لے رہی کہ قومی گیت کی حیثیت کس چیز کو حاصل ہونی چاہیے۔
کرشنا کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈووکیٹ ایس مرلی دھر نے کہا کہ ترمیم میں ’’قومی گیت‘‘ کی اصطلاح کی تعریف نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ابہام اور قانون کے ممکنہ غلط استعمال کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ وندے ماترم کا کون سا نسخہ یا کتنے بند قومی گیت تصور کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات ایک دفتری یادداشت کے ذریعے جاری کی گئی ہیں، جسے گزٹ میں شائع نہیں کیا گیا، اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے انتظامی احکامات کے ذریعے وندے ماترم کے بارے میں پہلے سے قائم مفہوم کو تبدیل کردیا ہے۔
جب جسٹس باغچی نے کہا کہ عام طور پر وندے ماترم کو قومی گیت سمجھا جاتا ہے تو مرلی دھر نے جواب دیا کہ رائج مفہوم اس کے پہلے دو بندوں سے متعلق تھا۔
سینئر وکیل نے یہ بھی کہا کہ ترمیم عجلت میں منظور کی گئی اور اس کے لیے وہ عمل نہیں اپنایا گیا جسے انہوں نے قومی اتفاقِ رائے کا عمل قرار دیا۔
سالیسٹر جنرل نے بھی بنچ سے درخواست کی کہ وہ اس عرضی پر نوٹس جاری نہ کرے، کیونکہ اس سے معاملہ ’’سنسنی خیز‘‘ بن سکتا ہے۔
کرشنا کی درخواست کے مطابق قومی گیت تک تعزیری دفعات کا دائرہ بڑھانا، اور اس کے ساتھ وندے ماترم کے تمام چھ بند گانے کی ہدایات جاری کرنا، اظہارِ رائے کی آزادی، ضمیر کی آزادی، مساوات، مذہبی آزادی اور سیکولر ازم سے متعلق بنیادی سوالات پیدا کرتا ہے۔
درخواست میں خاص طور پر اس شرط کو چیلنج کیا گیا ہے کہ وندے ماترم کے مکمل چھ بندوں والے نسخے کو قومی گیت کا سرکاری نسخہ تصور کیا جائے۔ اس کے علاوہ جہاں وندے ماترم اور قومی ترانہ دونوں گائے یا بجائے جائیں، وہاں پہلے وندے ماترم پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران مرلی دھر اور سالیسٹر جنرل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
مہتا نے درخواست گزار کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیکولر ازم کا مفہوم اتنا محدود نہیں ہوسکتا۔‘‘ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا، ’’قانون سازی نکسلائیٹس کے تصور کے مطابق نہیں ہوسکتی۔‘‘
مرلی دھر نے اس پر سخت اعتراض کیا اور اس ریمارک کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا تبصرہ کسی قانون افسر کو زیب نہیں دیتا۔
مہتا نے کہا کہ ان کا حوالہ ان لوگوں کی جانب تھا جو، ان کے بقول، قانون سازی کے عمل کا احترام نہیں کرتے۔
سماعت ختم ہونے کے بعد مرلی دھر نے دوبارہ اس ریمارک کو واپس لینے کا مطالبہ کیا، لیکن سالیسٹر جنرل نے اسے واپس لینے سے انکار کردیا۔
سالیسٹر جنرل نے کہا، ’’میں وہی بات دوبارہ کہہ سکتا ہوں جو میں نے کہی۔ قانون کے مطابق چلنا ہوگا۔ مجھے اپنے اس بیان پر افسوس نہیں ہے۔ میں نے کہا تھا کہ یہ آئینی طریقہ ہے، نہ کہ وہ طریقہ جو نکسلائیٹ چاہتا ہے۔ اور مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔‘‘
بعد ازاں مرلی دھر نے سالیسٹر جنرل پر ’’تماشائیوں کو خوش کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا۔بنچ نے اس تلخ تبادلے میں مداخلت نہیں کی، تاہم کہا کہ وہ ان تبصروں کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ڈیسک)









