نئی دہلی؍۲۳ ستمبر
بھارت نے بدھ کے روز جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں بھارت کے حوالے سے کیے گئے ’’غیر ضروری اور حقائق کے منافی‘‘ تبصروں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کو ان معاملات پر رائے دینے کا کوئی اختیار نہیں جو مکمل طور پر بھارت کے داخلی معاملات ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے ’’بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ‘‘ ہیں اور ’’سیاسی مقاصد کے تحت کی جانے والی پروپیگنڈا پر مبنی باتوں کو بار بار دہرانے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔‘‘
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے۸۱ ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاس سے خطاب کیا۔
بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر جموں و کشمیر کے معاملے پر ’’متحدہ موقف‘‘ برقرار رکھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے ’’متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع کے منصفانہ اور پرامن حل‘‘ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
جموں و کشمیر سے متعلق ان حوالوں پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’بھارت جموں و کشمیر سے متعلق نام نہاد او آئی سی رابطہ گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں بھارت کے حوالے سے کیے گئے غیر ضروری اور حقائق کے منافی تبصروں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔ او آئی سی کو ان معاملات پر رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں جو مکمل طور پر بھارت کے داخلی معاملات ہیں۔‘‘
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر ایک پوسٹ میں جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں بھارت کے حوالے سے کیے گئے تبصروں پر بھارت کا بیان بھی شیئر کیا۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا، ’’اس طرح کے متعصبانہ بیانیوں کی بار بار حمایت او آئی سی کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’پاکستان کو من گھڑت اور متعصبانہ پروپیگنڈا پیش کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے بجائے او آئی سی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ پاکستان کو، جس کا دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کا ایک دستاویزی ریکارڈ موجود ہے، اپنے اندر جھانکنے اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے جاری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کا مشورہ دے۔‘‘
۔۔۔۔۔









