جموں؍۲۱ ستمبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں میں منعقدہ ’صحت کے لیے ملیٹس ‘ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے طبی برادری، سائنسدانوں، کسانوں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ موٹے اناج کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
اس سے قبل دن میں لیفٹیننٹ گورنر نے اسکواسٹ جموں کے زیر اہتمام ملیٹس مشن سے متعلق قومی مکالمے سے بھی خطاب کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جی ایم سی میں منعقدہ سیمینار محض ایک علمی سرگرمی نہیں ہے۔
سنہا نے کہا، ’’یہ زمین، اس کے پانی، زرعی خاندانوں، دیہات اور ہر شہری کی صحت کے حوالے سے ہماری مشترکہ ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ فطرت کا پیغام واضح ہے کہ حدود کو پار نہیں کیا جاسکتا اور ملیٹس ایک قابلِ اعتماد متبادل پیش کرتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ملیٹس ہندوستانی تہذیب جتنے ہی قدیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجرا، جوار، راگی، کوڈو، کٹکی، کنگنی اور سانوا نے نسلوں کو خوراک فراہم کی ہے، یہ کم پانی میں سخت موسمی حالات کے باوجود اُگتے ہیں اور انہیں کیمیائی اشیا کی بھی کم ضرورت ہوتی ہے۔
سنہانے۲۰۱۸کی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ۲۰۱۶میں غیر متعدی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات تمام اموات کا۶۱ء۸ فیصد تھیں، جو۱۹۹۰میں۳۷ء۰۹ فیصد تھیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ۱۵ سے۴۹ سال کی عمر کی۱۱ فیصد خواتین اور۱۵ فیصد مردوں میں بلند فشارِ خون ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سنہا نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ یہ محض طبی مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ براہِ راست خاندانوں کی معاشی حالت، سماجی زندگی اور قومی پیداواریت کو متاثر کرتے ہیں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ ایسے حالات میں ہماری روایتی خوراک، یعنی ملیٹس کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنا ہمیں بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی کی جانب ایک اہم راستہ دکھا سکتا ہے۔‘‘
ملیٹس کی غذائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان میں فائبر، آئرن، کیلشیم اور دیگر خرد غذائی اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد تحقیقی مقالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملیٹس کا گلیسیمک انڈیکس نسبتاً کم ہوتا ہے اور یہ دل کی صحت، کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے اور وزن کو متوازن رکھنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’تحقیقی مطالعات کو دیکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ملیٹس کا اثر ایک مکمل سلسلے پر پڑتا ہے، یعنی انفرادی صحت کے تحفظ سے لے کر قدرتی ماحول کے تحفظ تک۔ طبی برادری کے تعاون سے ان کے فوائد کے بارے میں آگاہی معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنی چاہیے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ محض بحث سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی فصلوں میں تنوع پیدا کریں جبکہ سائنسدانوں سے کہا کہ وہ زیادہ پیداوار دینے والی اور موسمی حالات سے ہم آہنگ اقسام تیار کریں۔
سنہا نے کہا، ’’میں تمام ڈاکٹروں اور غذائی ماہرین سے اپیل کرتا ہوں کہ متوازن خوراک میں موٹے اناج کے کردار کے بارے میں شواہد پر مبنی آگاہی پیدا کریں۔ میں جموں و کشمیر کے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تیار شدہ غذاؤں کے مقابلے میں ملیٹس پر مشتمل غذائیت سے بھرپور اور متوازن خوراک کو ترجیح دیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ اگر سب مل کر آگے بڑھیں تو ایسا جموں و کشمیر تعمیر کیا جاسکتا ہے جو غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ شہریوں کی صحت کا تحفظ کرے اور پانی، مٹی اور ماحولیات کی بھی حفاظت کرے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں مل کر صحت، پائیداری اور خوشحالی کے بیج بونے چاہئیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
(ڈی آئی پی آر)










