سری نگر؍۲۱ستمبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے پیر کے روز عمر عبداللہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں عوام کو درپیش مسائل پر بی جے پی کے سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسمبلی کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ بی جے پی ایک مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے این ایچ ایم ملازمین، آشا کارکنوں، آنگن واڑی کارکنوں، کیمپا کارکنوں، جی آر ایس اور ٹیکنیکل اسسٹنٹس سے متعلق مسائل پر سوالات اٹھا رہی ہے۔
شرما نے کہا’’آؤٹ سورسنگ کی وجہ سے لوگ مایوسی کا شکار ہیں اور وہ جواب چاہتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان متاثرہ طبقات کی آواز بنتے ہوئے آج حکومت سے جواب طلب کیا۔ عمر عبداللہ فرار ہونا چاہتے ہیں، حکومت عوامی مسائل سے فرار اختیار کرنا چاہتی ہے‘‘۔
خزاں اجلاس کے پہلے روز تعزیتی حوالوں کی کارروائی مکمل ہونے کے فوراً بعد بی جے پی ارکان نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا۔ اپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں پوسٹر اٹھا کر پہلے اپنی نشستوں سے احتجاج کیا اور بعد میں ان مسائل پر احتجاج درج کرانے کے لیے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔
انہوں نے سوالیہ وقفے کے دوران بھی حکومت کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی، جبکہ اسپیکر نے ہنگامے کے درمیان سوالیہ وقفے کی کارروائی جاری رکھی۔
شرما نے مزید کہا’’جب حکومت ناکام ہوجاتی ہے تو اسمبلی میں عوام کے سامنے حکومت کو جواب دہ بنانا اپوزیشن کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ بی جے پی اپنی یہ ذمہ داری پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے ہم نے آج حکومت سے جواب طلب کرنے کی کوشش کی‘‘۔
دریں اثنا، پی ڈی پی رہنما وحید پرہ، جنہوں نے جموں و کشمیر میں ریزرویشن کی معقولیت اور ازسرنو ترتیب پر بحث کے لیے التوا کی تحریک پیش کی، نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نوجوان سب سے اہم مسئلہ ہیں۔
پرہ نے کہا’’بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر ہے، بے روزگاری کی شرح تقریباً۲۳فیصد ہے۔ اور سب سے بڑا مسئلہ میرٹ کا ہے۔ چاہے میرٹ رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کریں یا ملازمتوں کی تلاش کریں، جموں و کشمیر میں میرٹ کوئی اہلیت نہیں ہے۔ بھارت کی تاریخ میں پہلی بار میرٹ رکھنے والی آبادی کو سزا دی جا رہی ہے۔ آپ تقریباً۷۰ فیصد آبادی کو۳۰فیصد مواقع دیتے ہیں اور۳۰ فیصد آبادی کو۷۰ فیصد مواقع دیتے ہیں‘‘۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاسی وجوہات کی بنا پر ایک ناقص ریزرویشن پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔
پرہ نے مزید کہا’’اس پر دوبارہ غور کرنے اور اسے معقول بنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے نوجوان بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔










