سرینگر؍۲۱ ستمبر
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری غلام احمد میر نے پیر کے روز بی جے پی ارکان اسمبلی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی میں خلل ڈال کر مرکز کی جانب سے کیے گئے ریاستی حیثیت کی بحالی کے وعدے پر سوال اٹھانے والی سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ سے بچنے کی کوشش کی۔
اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میر نے کہا، ’’پہلے ہی دن بی جے پی نے ہنگامہ برپا کیا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔ آج پورا ایوان متحد ہونے والا تھا اور بی جے پی سے سوال کرنے والا تھا کہ مرکز نے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق اپنے وعدے کو کیوں پورا نہیں کیا۔‘‘
دورو حلقے سے کانگریس کے رکن اسمبلی میر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے میں مرکز کی ناکامی کا اثر مقامی حکومت پر بھی پڑ رہا ہے۔
میر نے کہا، ’’اگر آپ اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کے اثرات ہماری حکومت میں بھی نظر آتے ہیں۔ ہمارے عوام کے مسائل بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ بی جے پی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ہمارے خلاف اور ملک کے وزیر اعظم کے خلاف سوالات اٹھائے جائیں گے۔‘‘
کانگریسی ممبر اسمبلی نے یومیہ اجرت اور عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ملازمین کا مسئلہ اٹھانے پر بھی بی جے پی سے سوال کیا اور کہا کہ پارٹی نے جموں و کشمیر میں سات سال تک حکومت کی، لیکن اپنے دور اقتدار میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
میر نے سوال کیا، ’’سات سال تک ان کی ڈبل انجن حکومت تھی، سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے باوجود یہی یومیہ اجرت اور عارضی ملازمین موجود تھے۔ انہوں نے اس وقت ان کے مسائل کیوں حل نہیں کیے؟‘‘
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے پاس اختیارات محدود ہونے کے باوجود انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔
میر نے مزید کہا، ’’اگر وزیر اعلیٰ نے چند دن کا وقت مانگا ہے اور اس مسئلے کو منظم طریقے سے حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تو انہیں ایک موقع دیا جانا چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










