نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ نے دفاعی شعبے میں مائیکرو،ا سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے اسٹارٹ اپس کی شراکت کو بڑھانے کے لیے منگل کے روز متعدد نئی پہل قدمیوں کا آغاز کیا، جن کے تحت انہیں براہِ راست مالی امداد، تربیت اور تحقیقی تعاون کے ساتھ ساتھ دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی ٹیسٹنگ کی سہولیات تک خصوصی رسائی حاصل ہوگی۔
وزیردفاع نے پیر کے روز یہاں ڈی آر ڈی او-صنعت رابطہ اجلاس ‘وِمرش میں ان پہل قدمیوں کا افتتاح کیا۔ اس دوران ڈی آر ڈی او کی جانب سے تیار کردہ سافٹ ویئر کے سورس کوڈ کو لائسنس یافتہ صنعتوں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ایک محفوظ اور یکساں نظام بھی شروع کیا گیا۔
پروگرام میں 13 مینوفیکچرنگ پارٹنرز کو جدید ترین دفاعی نظام کی تجارتی پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نو لائسنس معاہدے سونپے گئے۔ ڈی آر ڈی او نے صنعتوں تک رسائی بڑھانے اور چھوٹی صنعتوں کی شراکت کو فروغ دینے کے لیے سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز اور لگھو ادیو بھارتی کے ساتھ حکمتِ عملی کے معاہدے بھی کیے۔
ڈی آر ڈی او نے گھریلو دفاعی کمپنیوں کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے کوالٹی کونسل آف انڈیا کے ساتھ ‘سسٹم فار ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ’ کے دوسرے ایڈیشن کے لیے معاہدہ کیا۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی آر ڈی او اور صنعت کے درمیان تعاون صرف پیداوار تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تحقیق، ڈیزائن، ٹیسٹنگ، سرٹیفکیشن اور مینوفیکچرنگ تک پورے عمل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر ڈی او کے پاس علم اور ٹیکنالوجی، صنعت کے پاس پیداواری صلاحیت، اسٹارٹ اپس کے پاس جدت اور نوجوانوں کے پاس نئے ہندوستان کا خواب ہے۔ ان چاروں کی متحدہ طاقت سے کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047ء تک اہم ٹیکنالوجیز میں خودکفالت، ملک میں تیار کردہ سامان کے شیئر میں بڑا اضافہ، دفاعی برآمدات میں ملٹی فولڈ اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کی مضبوط موجودگی حاصل کرنی ہوگی۔
وزیردفاع نے کہا کہ گزشتہ چند سال میں دفاعی شعبے میں متعدد بڑے اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں مثبت مقامی سطح پر تیاری کرنے کی فہرست، میک ان انڈیا، آئی ڈی ای ایکس اور ادتی جیسی پہل قدمیاں شامل ہیں۔ دفاعی تحقیق و ترقیاتی بجٹ کا 25 فیصد نجی شعبے کے لیے رکھنے کا فیصلہ بھی درآمدات پر انحصار گھٹانے اور خودکفالت بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای ہندوستان میں جدت کے نئے حاملین ہیں۔ انہیں بڑی کمپنیوں کے ساتھ دفاعی سپلائی چین کا لازمی حصہ بنانا ضروری ہے۔ نئی پہل قدمیوں میں صنعت پر مبنی تحقیق و ترقی، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کو مالی امداد اور رہنمائی، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون نیز مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ہائپر سونکس اور ڈائریکٹڈ انرجی جیسی مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس جدت کو تیز کر سکتے ہیں اور ہندوستان کی تکنیکی و حکمتِ عملی کی صلاحیت کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ایم ایس ایم ای سے معیار، بروقت فراہمی، جدت اور عالمی معیاروں پر مسلسل توجہ دینے کو کہا۔
دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ نے کہا کہ ‘وارتا سے وکاس ‘ کے موضوع پر مبنی وِمرش-2026 کا مقصد نجی شعبے کی صلاحیتوں کو دفاعی نظام کے مرکز میں لانا ہے۔ اس کا ہدف خریدار- فروخت کنندگان کے تعلقات سے آگے بڑھ کر تعاون اور مشترکہ ترقی پر مبنی تکنیکی نظام تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 1,100 سے زائد صنعتوں کو 2,300 سے زیادہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی جا چکی ہیں۔ ڈی آر ڈی او کی جانب سے تیار کردہ تقریباً 50 میزائلوں سے جڑی ٹیکنالوجی بھی صنعتوں کے لیے دستیاب کرائی گئی ہے۔
پروگرام میں ‘ڈیفنس سسٹمز فار ریزیلیئنٹ بھارت-ایڈوانسنگ آتم نربھرتا ان ڈیفنس’ کتاب کا اجراء کیا گیا۔ اس میں 2014ء سے 2026ء کے درمیان ڈی آر ڈی او کے تکنیکی گروپس کے ذریعہ تیار کردہ اہم دفاعی نظاموں کا مجموعہ ہے۔ ڈی آر ڈی او میں انسانی وسائل کی بیرونی خدمات کے لیے معاہداتی رہنمائی کے خطوط بھی جاری کیے گئے۔
پروگرام میں ڈی آر ڈی او کے تکنیکی گروپس نے ایروناٹیکل سسٹمز، میزائلوں، اسلحہ، مائیکرو الیکٹرانکس اور نیول سسٹمز سے جڑے تکنیکی روڈ میپ پیش کیے۔ ڈی آر ڈی او ہیڈکوارٹر نے طریقہ کار کو آسان بنانے، سہولیات تک تیز تر رسائی اور لائسنسنگ کے عمل کے وقت کو کم کرنے سے متعلق پہل قدمیاں بھی پیش کیں۔
پروگرام میں دفاعی صنعت کے 250 سے زائد اہم نمائندوں، صنعتی تنظیموں کے نمائندوں، سینئر سویلین و ملٹری افسران اور ڈی آر ڈی او کے سینئر سائنسدانوں نے شرکت کی۔ شعبہ برائے فروغِ صنعت و اندرونی تجارت کے سکریٹری نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔





