ہم نے سنا ہے، جی ہاں صرف سنا ہے کہ جھوٹ بولے، کوا کاٹے……. کیا واقعی جھوٹ بولنے والے کو کوا کاٹتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم ہے……. اس لیے معلوم نہیں ہے کہ اللہ میاں کی قسم، ہم نے کسی کوے کو جھوٹے کو کاٹتے ہوئے نہیں دیکھا……. اندازہ لگائیے کہ اگر یہ سچ ہو اور کوا سچ میں جھوٹوں کو کاٹتا ہو تو……. تو کشمیر میں کوے کم پڑ جائیں……. ایک ایک کوے کے حصے میں دس دس جھوٹے آ جائیں گے……. اور کوؤں کے سچ میں وارے نیارے ہو جائیں گے۔لیکن صاحب، یہ سچ نہیں ہے، کوا جھوٹوں کو نہیں کاٹتا ہے……. پھر ایسا کیوں کہا جاتا ہے، ہمیں نہیں خبر، ہمیں نہیں پتہ……. اور ہمیں یقین ہے کہ یہ بات کوے بھی نہیں جانتے ہوں گے……. اگر انہیں اس بات کا علم ہو جائے کہ ایسی کوئی کہاوت ہے تو……. تو ہوشیار! ایسا کوئی شخص اپنے کشمیر میں نہیں ہوگا، جسے کوے اپنا تر نوالہ نہ بنائیں گے……. کہ اگر بہ حیثیتِ قوم ہم میں کوئی ایک بات مشترکہ ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم سب، جی ہاں، ہم سب جھوٹے ہیں……. ہم جھوٹ بولتے ہیں، بلا لحاظِ مذہب و ملت اور رنگ و نسل کے جھوٹ بولتے ہیں۔ہماری تو اللہ میاں سے یہی دعا ہے کہ اس بات کی بھنک بھی کوؤں کو نہ لگ جائے کہ اگر کسی نے مخبری کی اور انہیں یہ بات بتا دی تو ہم سب گئے……. پھر ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا ہے……. کہ کاٹ کاٹ کر کتوں نے پہلے ہی ہمارا جینا دو بھر کر رکھا ہے……. اور یہ کتے کمینے ایسے ہیں کہ بلا کسی تفریق کے کاٹ کھاتے ہیں……. سچوں کو بھی اور جھوٹوں کو بھی……. یہ آگے پیچھے نہیں دیکھتے ہیں۔وقت کے حاکم تو کتوں کا کچھ نہیں کر پاتے ہیں، انہیں قابو میں نہیں رکھ پاتے ہیں……. ان کے پر نہیں کاٹ پاتے ہیں……. اب خود ہی بتائیے کہ ہوا میں بلندیوں تک اڑنے والے اور کسی کے ہاتھ نہ آنے والے کوؤں کا وہ کیا بگاڑ پائیں گے؟ہماری یہی خواہش ہے کہ کوؤں کو کسی بھی طرح یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں جھوٹوں کو کاٹنا ہوتا ہے……. کہ ایک بار اگر انہیں معلوم ہوا تو ہماری خیر نہیں……. بالکل بھی نہیں۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔





