’’ایک وقت تھا جب میں اپنے بیٹے کے کرکٹ کو مستقل طور پر اپنانے کے حق میں نہیں تھا۔ مجھے اس میں اس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا تھا،‘‘ یہ کہنا ہے غلام نبی ڈار کا، جو عاقب نبی کے والد ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کرکٹر کو سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھارتی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
سرکاری اسکول کے استاد ڈار نے اپنا خیال اس وقت بدلا جب انہیں بھارت کی سابقہ نمائندگی کرنے والے پرویز رسول کی کامیابی سے حوصلہ ملا۔ پرویز رسول 2014ء میں آئی پی ایل میں شامل ہونے والے پہلے کشمیری کرکٹر بنے تھے۔
ڈار کہتے ہیں، ’’جب پرویز رسول کا آئی پی ایل کے لیے انتخاب ہوا تو ہماری امیدیں بھی جاگ اٹھیں۔‘‘عاقب نے اپنے والد کو مایوس نہیں کیا۔ وہ بھارت کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے منتخب ہونے والا کشمیر کا پہلا کھلاڑی ہے۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر عاقب کو زخمی جسپریت بمراہ کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ۔ شمالی کشمیر کا آبائی گاؤں شیری، جو بارہمولہ-اُوڑی قومی شاہراہ کے ساتھ جنگلات اور دریائے جہلم کے درمیان واقع ہے، نے اس خبر کے بعد سے جشن منا یا۔
29 سالہ عاقب جموں و کشمیر سے قومی اسکواڈ میں جگہ بنانے والے تیسرے کھلاڑی ہیں۔ ان سے قبل پرویز رسول اور عمران ملک بھارتی ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں۔ عاقب کا یہ سفر طویل اور محنت طلب رہا۔ آٹھویں جماعت میں کرکٹ سے دلچسپی پیدا ہونے کے بعد وہ پرویز رسول کے مداح بن گئے اور محدود مالی وسائل کے باوجود اپنے کھیل کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل محنت کرتے رہے۔
ڈار نے عاقب کی کرکٹ ٹریننگ کے لیے سری نگر کے باقاعدہ سفر کا انتظام کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے اصرار پر عاقب نے ایم بی بی ایس کے داخلہ امتحان میں بھی دو مرتبہ شرکت کی، لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد اس نے سری نگر کے امر سنگھ کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا۔‘‘
اس کے بعد جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) عاقب کے سفر میں شامل ہوئی۔ ڈار کے مطابق، کالج کی کلاسوں کے بعد عاقب باقاعدگی سے سری نگر میں جے کے سی اے کی پچوں پر پریکٹس کرتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے کوچز اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس کے سفر میں بھرپور تعاون کیا۔عاقب نے 2025-26ء کی رانجی ٹرافی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس نے 60 وکٹیں حاصل کیں اور جموں و کشمیر کو پہلی مرتبہ رنجی ٹرافی کا چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کارکردگی نے فوری طور پر قومی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرلی۔ اس سے قبل 2024-25ء کے رانجی ٹرافی سیزن میں بھی عاقب 44 وکٹیں حاصل کرکے ٹیم کے نمایاں فاسٹ بولر بن کر ابھرے تھے۔
ڈار کہتے ہیں، ’’ٹیسٹ اسکواڈ میں عاقب کا انتخاب کسی بھی والدین کے لیے فخر کا لمحہ اور اس کے لیے ایک خواب کی تعبیر ہے۔ اس نے اپنی جگہ حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔‘‘ وہ اپنے تین بچوں میں سب سے بڑے عاقب کو ’’سادہ، خاموش اور محنتی‘‘ نوجوان قرار دیتے ہیں۔ عاقب کے چھوٹے بھائی اور بہن مختلف یونیورسٹیوں سے پوسٹ گریجویشن کر رہے ہیں۔
عاقب کشمیر کے ان نوجوان کرکٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے محدود کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے باوجود اپنے خوابوں اور کھیل کو ترک نہیں کیا۔ ان کے حوصلہ افزا اور رہنما پرویز رسول، جو جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ کے رہنے والے ہیں، وادی کشمیر سے قومی سطح پر پہنچنے والے پہلے کرکٹر تھے۔ راسخ سلام ڈار بھی آئی پی ایل 2026ء میں اپنی شاندار کارکردگی، بالخصوص رائل چیلنجرز بنگلورو کو ٹائٹل جتوانے میں اپنے فیصلہ کن کردار کے بعد ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
عاقب کے پڑوسی ظہور احمد، جنہوں نے اسے بچپن سے بڑا ہوتے دیکھا ہے، یاد کرتے ہیں کہ وہ بچپن میں اپنے صحن میں اکیلا ہی گیند سے کھیلتا رہتا تھا۔ احمد کہتے ہیں، ’’اس کے اندر بچپن ہی سے کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا۔ وہ گیند کو رسی سے باندھ کر اس کے ساتھ پریکٹس کیا کرتا تھا۔‘‘
احمد کہتے ہیں، ’’ہم سری لنکا میں اس کی کارکردگی دیکھنے کے لیے بے حد پُرجوش ہیں۔‘‘اور صرف وہی نہیں، پورا کشمیر بھی عاقب نبی کو میدان میں دیکھنے کا منتظر ہے۔









